صحافیوں نے بھی آزمائی قسمت: سوچی میں ’’پرسونا استرانی‘‘ کی دلچسپ قرعہ اندازی

سوچی (صدائے روس)

روس کے معروف سیاحتی شہر سوچی میں منعقد ہونے والے جدید صحافت کے فورم ’’آل رشیا 2026‘‘ میں سنجیدہ پیشہ ورانہ مباحث، میڈیا کے مستقبل پر تبادلۂ خیال اور تجربات کے اشتراک کے ساتھ ایک خوش گوار اور دلچسپ سرگرمی بھی شرکا کی توجہ کا مرکز بنی۔ روسی جریدے ’’پرسونا استرانی‘‘ نے اپنی نمائشی جگہ پر صحافیوں اور فورم کے دیگر شرکا کے لیے خصوصی قرعہ اندازی کا اہتمام کیا، جس نے فورم کی مصروف فضا میں خوشی، تجسس اور دوستانہ جوش پیدا کردیا۔

’’آل رشیا‘‘ روسی صحافت کا ایک اہم سالانہ فورم ہے، جہاں ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے صحافی، مدیران، ٹی وی نمائندے، پریس سیکریٹری، میڈیا ماہرین، سرکاری اداروں کے نمائندے اور ابلاغِ عامہ سے وابستہ شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ فورم کے دوران صحافت کو درپیش موجودہ چیلنجز، ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی، مصنوعی ذہانت، اطلاعاتی تحفظ، سماجی ذمہ داری اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مستقبل جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

تاہم مسلسل اجلاسوں، مذاکروں اور پیشہ ورانہ ملاقاتوں کے درمیان ’’پرسونا استرانی‘‘ کی جانب سے منعقد کی گئی قرعہ اندازی نے شرکا کو ایک مختلف اور خوش گوار تجربہ فراہم کیا۔ جریدے کی نمائشی جگہ پر آنے والے صحافیوں نے نہ صرف اس کی اشاعتوں اور سرگرمیوں میں دلچسپی ظاہر کی بلکہ قرعہ اندازی میں بھی بھرپور شرکت کی۔

قرعہ اندازی شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں صحافیوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔ بعض شرکا اپنے نمبر کو خوش قسمت قرار دے رہے تھے، کچھ پہلی مرتبہ کسی صحافتی فورم میں ہونے والی قرعہ اندازی کا حصہ بن رہے تھے، جبکہ کئی صحافی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہوئے نتائج کا انتظار کرتے دکھائی دیے۔

اس موقع پر ایک دلچسپ اور غیر رسمی ماحول دیکھنے میں آیا۔ عام طور پر سوالات کرنے اور دوسروں کے انٹرویو لینے والے صحافی خود کیمرے کے سامنے آئے اور انہوں نے فورم، جریدے اور قرعہ اندازی کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے۔ شرکا سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنی کامیابی کے حوالے سے پُرامید ہیں، انہیں کس قسم کے انعام کی توقع ہے اور اگر قسمت نے ان کا ساتھ دیا تو وہ اپنی خوشی کس طرح منائیں گے۔

صحافیوں کے جوابات میں پیشہ ورانہ سنجیدگی کے ساتھ مزاح بھی نمایاں تھا۔ بعض نے کہا کہ صحافتی زندگی میں معلومات اور خبروں کی تلاش کے ساتھ تھوڑی سی خوش قسمتی بھی ضروری ہوتی ہے۔ کچھ شرکا کا کہنا تھا کہ اصل انعام فورم میں شرکت، نئے لوگوں سے ملاقات اور مختلف علاقوں کے صحافیوں کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے، تاہم اگر اس کے ساتھ کوئی تحفہ بھی مل جائے تو یہ خوشی دوگنی ہوجاتی ہے۔

قرعہ اندازی کے آغاز کے ساتھ ہی شرکا کی توجہ اعلان کیے جانے والے نمبروں پر مرکوز ہوگئی۔ ہر نیا نمبر سامنے آنے پر لوگ اپنے ٹکٹ یا نمبر کو غور سے دیکھتے، جبکہ کامیاب ہونے والے شرکا کا استقبال تالیوں اور مبارک باد سے کیا جاتا۔ انعام حاصل کرنے والے صحافیوں کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی اور انہوں نے جریدے کے نمائندوں کے ساتھ یادگاری تصاویر بھی بنوائیں۔

اس سرگرمی کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں محض انعامات تقسیم نہیں کیے گئے بلکہ مختلف شہروں اور اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ایک دوسرے سے غیر رسمی ماحول میں ملنے کا موقع بھی ملا۔ اس دوران نئے تعارف ہوئے، رابطوں کا تبادلہ کیا گیا اور مستقبل میں ممکنہ صحافتی تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔

صحافتی فورموں میں زیادہ تر توجہ تقاریر، کانفرنسوں، گول میز اجلاسوں اور سرکاری پروگراموں پر مرکوز رہتی ہے، لیکن اس نوعیت کی سرگرمیاں شرکا کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خوش گوار ماحول میں ہونے والی مختصر گفتگو بعض اوقات مستقبل کے بڑے صحافتی منصوبوں اور پیشہ ورانہ تعاون کی بنیاد بن جاتی ہے۔

’’پرسونا استرانی‘‘ کے نمائندوں کے مطابق اس قرعہ اندازی کا مقصد صرف تحائف تقسیم کرنا نہیں تھا بلکہ جریدے اور قارئین کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا، صحافیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور فورم میں دوستانہ ماحول کو فروغ دینا بھی تھا۔

جریدہ ’’پرسونا استرانی‘‘ روس کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات، سماجی کارکنوں، ماہرین، ثقافتی نمائندوں اور کامیاب پیشہ ور افراد کی سرگرمیوں کو اپنے صفحات پر جگہ دیتا ہے۔ فورم میں جریدے کی شرکت نے اسے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے اپنی صحافتی سرگرمیوں اور آئندہ منصوبوں کو متعارف کرانے کا موقع فراہم کیا۔

قرعہ اندازی کے دوران کیے گئے مختصر انٹرویوز نے اس سرگرمی کو مزید دلچسپ بنادیا۔ کیمرے کے سامنے آنے والے شرکا نے فورم کے انتظامات، صحافتی موضوعات پر ہونے والی گفتگو اور پیشہ ورانہ رابطوں کو مفید قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’آل رشیا‘‘ جیسے فورم صحافیوں کو روزمرہ کے معمولات سے نکل کر اپنے شعبے کو وسیع تناظر میں دیکھنے اور دوسرے علاقوں کے تجربات جاننے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

فورم میں روس کے دور دراز علاقوں سے آنے والے صحافیوں کی موجودگی نے بھی اس تقریب کو خصوصی اہمیت دی۔ مختلف ثقافتی، سماجی اور جغرافیائی پس منظر رکھنے والے صحافی ایک ہی جگہ جمع ہوئے اور انہیں ایک دوسرے کے کام، علاقائی مسائل اور میڈیا کی ضروریات کو سمجھنے کا موقع ملا۔

اس دوران بعض شرکا قرعہ اندازی کی کارروائی کو اپنے موبائل فون اور کیمروں میں محفوظ کرتے رہے۔ کوئی کامیاب نمبروں کا اعلان ریکارڈ کررہا تھا، کوئی انعام حاصل کرنے والوں کے تاثرات لے رہا تھا اور کوئی اپنے ادارے یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے مختصر ویڈیو تیار کررہا تھا۔ یوں ایک تفریحی سرگرمی بھی صحافیوں کے لیے ایک نئی خبر اور دلچسپ ویڈیو رپورٹ میں تبدیل ہوگئی۔

قرعہ اندازی میں کامیابی حاصل نہ کرنے والے شرکا بھی مایوس دکھائی نہیں دیے۔ انہوں نے فاتحین کو مبارک باد دی اور اس سرگرمی کو فورم کی ایک خوبصورت یاد قرار دیا۔ ان کے مطابق اصل کامیابی فورم میں شرکت، نئے تجربات کا حصول اور صحافتی برادری کے ساتھ رابطے مضبوط کرنا ہے۔

’’پرسونا استرانی‘‘ کی جانب سے منعقد کی گئی یہ سرگرمی اس حقیقت کی عکاس تھی کہ صحافت صرف مشکل سوالات، سنگین واقعات اور مسلسل خبروں کی تلاش کا نام نہیں، بلکہ صحافیوں کے درمیان انسانی روابط، دوستانہ ماحول اور مشترکہ خوشیوں کی بھی اپنی اہمیت ہے۔

سوچی میں منعقدہ ’’آل رشیا 2026‘‘ کے دوران جہاں میڈیا کے حال اور مستقبل سے متعلق اہم موضوعات زیرِ بحث آئے، وہیں اس قرعہ اندازی نے فورم کے شرکا کو چند خوش گوار اور یادگار لمحات بھی فراہم کیے۔ خوش قسمت شرکا تحائف لے کر واپس لوٹے، لیکن باقی صحافی بھی نئے دوستوں، پیشہ ورانہ رابطوں اور خوبصورت یادوں کے ساتھ اس سرگرمی سے رخصت ہوئے۔

یوں ’’پرسونا استرانی‘‘ کی قرعہ اندازی فورم کی ایک مختصر سرگرمی ہونے کے باوجود صحافیوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس میں خوشی بھی تھی، تجسس بھی، مختصر انٹرویوز بھی اور وہ دوستانہ ماحول بھی، جو کسی بڑے پیشہ ورانہ اجتماع کو محض ایک رسمی تقریب کے بجائے ایک یادگار تجربے میں تبدیل کردیتا ہے۔

#SadaeRus #PersonaStrany #AllRussia2026 #Sochi #JournalismForum #RussianJournalists #MediaForum #PrizeDraw #Lottery #RussianMedia #MediaEvent #Journalism #IshtiaqHamdani #RussiaNews