امریکہ کے ساتھ غیر مشروط دوستی کا دور ختم ،جرمن چانسلر

Trump and Merz Trump and Merz

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ غیر مشروط دوستی کا دور اب اختتام پذیر ہو رہا ہے، اور اس کی ذمہ داری ٹرمپ انتظامیہ پر عائد کی۔ میرس، جو کبھی جرمنی کے سب سے زیادہ امریکہ نواز سیاستدانوں میں شمار کیے جاتے تھے، ایران جنگ سے لے کر جرمن داخلی پالیسی تک کئی معاملات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بارہا اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ برلن میں اپنی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے، جو اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے علاقائی پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک انتخابی تقریب تھی، میرس نے کہا کہ آئندہ مستقبل قریب میں غیر مشروط ٹرانس اٹلانٹک دوستی کا دور شاید ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحر اوقیانوس کے دوسری جانب سیاسی رویوں میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، اور ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کو دیکھنے کے انداز میں بھی ایسی تبدیلی آئی ہے جسے شاید پہلے ممکن تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

اپریل میں میرس نے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس مشرق وسطیٰ میں کوئی مربوط حکمت عملی نہیں اور تنازع میں ایران نے اسے “ذلیل” کیا۔ اس پر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ میرس کو اپنے “بگڑے ہوئے ملک” کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک ماہ بعد، جو پہلے امریکی مالیاتی ادارے بلیک راک کے ساتھ کام کر چکے تھے، میرس نے کہا کہ وہ اب امریکہ کو “مواقع کی سرزمین” نہیں سمجھتے، اور اپنے بچوں کو ملازمت یا تعلیم کے لیے وہاں جانے کی حوصلہ شکنی کریں گے۔ اسی موسم گرما میں میرس نے ٹرمپ انتظامیہ کو جرمن انتخابات میں مداخلت سے خبردار کیا تھا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی محکمہ خارجہ نے یورپ میں جمہوری استحکام، قانون کی حکمرانی، آزادیِ اظہار و صحافت اور انسانی حقوق کو مضبوط بنانے کے مقاصد کے تحت تقریباً 50 لاکھ ڈالر کا گرانٹ پروگرام شروع کیا تھا۔

میرس نے جرمنی کے بڑھتے دفاعی اخراجات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اب اپنی ذمہ داری خود اٹھانے کا وقت آ چکا تھا۔ ان کے مطابق ملک اپنی افواج کو مضبوط بنائے گا اور روس کے ساتھ تنازع میں یوکرین کی مالی معاونت جاری رکھے گا، باوجود اس کے کہ جرمن معیشت خود “ساختی بحران” سے دوچار ہے. جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد سے ٹرمپ نے بیشتر امریکی تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کیے ہیں اور یورپی امیگریشن پالیسیوں پر اپنی دیرینہ تنقید جاری رکھی ہے۔ انہوں نے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے حصول کے منصوبے بھی دوبارہ زندہ کیے ہیں، اور ایران کے ساتھ امریکی جنگ پر میرس کی تنقید کے جواب میں انہیں چانسلر کے طور پر “انتہائی ناقص کارکردگی” کا حامل قرار دیا۔ 2025 میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں کئی یورپی حکام کو حیران کر دیا تھا، جب انہوں نے روس پر توجہ دینے کے بجائے یورپی حکومتوں پر آزادیِ اظہار کے زوال اور “بے قابو ہجرت” پر تنقید کی۔

وینس نے جرمنی کی “فائر وال” پالیسی پر بھی تنقید کی، یعنی میرس کی سی ڈی یو سمیت اہم جماعتوں کا امیگریشن مخالف جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کے ساتھ تعاون سے دیرینہ انکار، جو اب پارلیمان میں دوسری بڑی جماعت ہے۔ وینس نے کہا کہ جمہوریت اس مقدس اصول پر قائم ہے کہ عوام کی آواز اہمیت رکھتی ہے، اور فائر والز کی کوئی گنجائش نہیں، اصول پر یا تو عمل کریں یا نہ کریں۔ مئی میں پینٹاگون نے جرمنی میں تعینات 36 ہزار سے زائد فعال امریکی فوجیوں میں سے تقریباً 5 ہزار کو واپس بلانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جو اتحادیوں کے درمیان فوجی تعلقات میں مزید کشیدگی کی علامت ہے۔