ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیٹو رکن ملک سلواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو نے کہا ہے کہ وہ نیٹو اور روس کے درمیان کسی عسکری تصادم کے خواہاں نہیں، اور اگر ایسا تنازع پیدا ہوا تو وہ دیگر نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے اپنی افواج نہیں بھیجیں گے۔ فیکو نے یہ بیان 17 ستمبر کو سلوواکیہ کے شہر پریشوف میں طلبہ اور ہسپتال کے عملے سے خطاب کرتے ہوئے دیا، جو ان کے یوکرین کے دورے سے قبل کیا گیا۔ انہوں نے یورپ میں سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ روس-یوکرین جنگ “قابو سے باہر” ہو چکی ہے اور یورپ گیر تنازع کا خطرہ پہلے کبھی اتنا سنگین نہیں تھا۔ انہوں نے نیٹو کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ سلواکیہ کسی ایسے مسلح تنازع کا حصہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاں، ہم نیٹو کا حصہ ہیں، اس رکنیت کی قدر کرتے ہیں، اور تعاون و ذمہ داریوں کو اہم سمجھتے ہیں، لیکن بطور سربراہ حکومت وہ سلواکیہ کو کسی مسلح تصادم میں گھسیٹے جانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
فیکو، جو ماسکو نواز اور مقبولیت پسند رہنما تصور کیے جاتے ہیں، یوکرین کے لیے یورپی عسکری امداد کے سب سے سخت ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، اور نیٹو کے چند سربراہان حکومت میں شامل ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ وہ اکتوبر 2023 میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے فوراً بعد یوکرین کے لیے سلوواکیہ کی عسکری امداد معطل کر چکے ہیں۔