اقتصادی توازن میں تبدیلی ناگزیر، مغرب کی مزاحمت خطرناک، لاوروف

Ishtiaq Hamdani Ishtiaq Hamdani

ماسکو (صداۓ روس)

انٹرفیکس کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عالمی معیشت میں اپنے زوال پذیر اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے غیر منصفانہ حربے استعمال کر رہے ہیں۔ منگل کو چوتھے بین الاقوامی “ڈائیلاگ آن فیکس” فورم سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ مغرب اس اقتصادی نظام میں زمین کھو رہا ہے جسے اس نے خود کئی دہائیوں سے تشکیل دیا اور فروغ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی اعتبار سے مغرب واضح طور پر پیچھے جا رہا ہے، اور یہ اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ مغرب طویل عرصے سے عالمگیریت، آزاد مسابقت، جائیداد کی حرمت اور منڈی کی آزاد قوتوں کے فروغ کا داعی رہا ہے۔ لاوروف نے عالمی اقتصادی اثر و رسوخ کی نئے سرے سے تقسیم کو ایک معروضی تاریخی عمل قرار دیا جسے روکا نہیں جا سکتا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے خلاف مزاحمت کی کوششیں اقتصادی، سیاسی اور فوجی نتائج کی صورت میں نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ وزیر نے یہ الزام بھی لگایا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، بشمول فنڈنگ واپس لینے کی دھمکیاں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حربے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں سفارتی کارروائیوں تک بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ لاوروف کے مطابق جب مغربی حکومتیں کسی مخصوص ملک یا گروہ کے مؤقف کی عکاسی کرنے والی قراردادوں کی مخالفت کرتی ہیں، تو وہ ووٹنگ پر اثرانداز ہونے کے لیے فنڈنگ میں کٹوتی کی دھمکیوں اور دیگر تادیبی اقدامات کا سہارا لیتی ہیں۔