ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سابق سی آئی اے اور امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار اور سیاسی تجزیہ کار لیری جانسن نے تاس کو بتایا ہے کہ روس کو اپنے خصوصی عسکری آپریشن کے اہداف طاقت کے ذریعے حاصل کرنے ہوں گے، کیونکہ کیف سے مذاکرات کی کوئی امید نہیں۔ جانسن نے کہا کہ روس، امریکہ اور یوکرین کے مابین ممکنہ نئے دور کے مذاکرات کے حوالے سے مجھے بہت کم امید نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق یوکرین روس کی شرائط تسلیم کرنے پر تیار نہیں، اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے واضح کر دیا ہے کہ روس کی پہلی شرط یہ ہے کہ دونیتسک، لوگانسک عوامی جمہوریائیں، زاپوریژیا، خیرسون اور کریمیا کو مستقل طور پر روسی فیڈریشن کا حصہ تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی “ڈی نازیفیکیشن” ضروری ہے، جس کا مطلب نئے انتخابات کا انعقاد ہے، لیکن یوکرین اس کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکری کمزوری، یعنی اپنی مسلح افواج کی تعداد کم کرنا اور نیٹو کے ساتھ ہر قسم کا تعلق ختم کرنا بھی روس کی شرط ہے، جسے پورا کرنے پر یوکرین رضامند نہیں۔ ان کے مطابق روس کے پاس واحد آپشن یوکرین کو عسکری طور پر شکست دینا ہے۔
سابق سی آئی اے اہلکار کے مطابق امریکہ بنیادی طور پر روس کو تباہ کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی عوام کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ کسی غلط فہمی یا رابطے میں ناکامی کا معاملہ نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کے اندر گہرائی تک پیوست منصوبہ روس کو تباہ کرنا ہے، کیونکہ اتنا بڑا ملک برداشت نہیں کیا جا سکتا۔