ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاری نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کی ریلی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل عمل میں آئی۔ تحریک متنازع ووٹر فہرستوں پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یہ ریلی اس وقت بلائی گئی جب بدھ کو سی جے پی کے رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو جنتر منتر میں مبینہ طور پر داخل ہونے کے الزام میں پانچ دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ جنتر منتر دہلی کا مرکزی مقام ہے جسے حال ہی میں احتجاج کے لیے منظور شدہ مقامات کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ دیپکے نے اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بھارتی پرچم لے کر کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جمع ہوں۔ ایک اور نمایاں کارکن اور طالبہ رہنما نیہا بورا کو بھی جنتر منتر کے قریب سے حراست میں لیا گیا۔
حکام نے نئی دہلی اور قریبی علاقوں میں 25 ہزار سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے، جبکہ مجوزہ اجتماع کی نگرانی کے لیے رکاوٹیں، سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔ گرفتاریوں کے باوجود ریلی منعقد ہوئی۔ مقامی میڈیا نے پولیس اندازوں کے حوالے سے بتایا کہ تقریباً دو ہزار مظاہرین قومی پرچم تھامے کناٹ پلیس اور اس کے اطراف میں جمع ہوئے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دہلی میں اپوزیشن جماعتوں اور طنزیہ انداز اختیار کرنے والی سی جے پی تحریک کی جانب سے مسلسل احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ ملک گیر سطح پر ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے جا چکے ہیں۔ اپوزیشن گروپوں کا الزام ہے کہ اہل ووٹرز کو فہرستوں سے نکالا گیا اور اس عمل سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ انتخابی ادارے کا کہنا ہے کہ جن ووٹرز کے نام غلط طور پر خارج ہوئے ہیں وہ اپنے ناموں کی بحالی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
دیپکے کو حراست میں لیے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے، کیونکہ بھارتی حکام احتجاج کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں ہفتے کو دہلی میں طیارے کے اترتے ہی اس سے حراست میں لے لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ کو سی جے پی کی جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ دیپکے ایک اپوزیشن جماعت کے ترجمان کی رہائش گاہ سے، جہاں وہ مقیم تھے، نکل رہے تھے کہ پولیس نے انہیں روکا اور گاڑی میں بٹھا کر لے گئی۔ ایک افسر نے بھارتی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 163 کے تحت پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں احتیاطی حراست میں لیا جا رہا ہے۔
پولیس اس سے قبل رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور دیپکے کو ریلی نہ کرنے کا نوٹس دیا تھا۔ حکام کا مؤقف تھا کہ کناٹ پلیس، جو دارالحکومت کے قلب میں واقع کاروباری اور تجارتی علاقہ اور راجیو چوک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، احتجاج کے لیے منظور شدہ مقام نہیں، اور انہوں نے ان سے تاجروں، مسافروں اور عوام کے معمولات میں خلل نہ ڈالنے کی اپیل کی۔ نئی دہلی میونسپل کونسل نے سینٹرل پارک دو روز کے لیے بند کر دیا، جبکہ پولیس نے کسی مناسب مقام پر 11 افراد پر مشتمل علامتی پرچم تقریب کے لیے سہولت دینے کی پیشکش کی۔
دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو ریلی پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا، تاہم پولیس کی یقین دہانی ریکارڈ پر لی کہ اجتماع کو ضابطے میں رکھا جائے گا۔ احتجاج پر پابندیوں کا معاملہ بھارتی سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، جس نے جنتر منتر کو منظور شدہ مظاہرہ گاہ کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے اور حکام کو حالیہ احتجاجوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔