ماسکو (صداۓ روس)
روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کے دورۂ پاکستان کے نتائج کا ماہرین نے جائزہ لیا ہے۔ یہ کسی روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ اس دوران کولوکولتسیف نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں آرمی چیف عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل ہیں۔
دورے کے نتیجے میں منظم جرائم کے خلاف تعاون مضبوط بنانے سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جبکہ سلامتی کے مختلف شعبوں میں زبانی معاہدے بھی طے پائے۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر باسم رضا نے اسپٹنک سے گفتگو میں کہا کہ ان کے خیال میں دورے کے نتائج کسی بڑی تبدیلی کے بجائے بتدریج پیش رفت کی نوعیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق دورے کی بنیادی اہمیت سفارتی علامت میں ہے، کیونکہ روسی وزیر داخلہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک روایتی سفارتی ذرائع سے آگے بڑھ کر تعلقات کو ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ ہیں۔
باسم رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو روس کے ساتھ عملی بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے چاہییں۔ ان کے بقول پاک روس تعاون کے امکانات اندرونی سلامتی سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ماہر کے مطابق توانائی، تجارت، زراعت اور صنعتی تعاون میں نمایاں مواقع موجود ہیں، بشرطیکہ دونوں ممالک موجودہ مالی اور جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں پر قابو پا لیں۔
پاکستانی تجزیہ کار اور اکنامک ایڈوائزری گروپ کے سابق چیئرمین جاوید حسن کے مطابق منظم جرائم کے خلاف حال ہی میں دستخط ہونے والی یادداشت اہم ہے، مگر بنیادی طور پر ایک فریم ورک کے طور پر۔ ان کی رائے میں سب سے زیادہ عملی امکانات والے وعدے حوالگی اور قیدیوں کی منتقلی کے معاہدوں کو حتمی شکل دینا اور واپسی کے معاہدے پر عمل درآمد تیز کرنا ہیں۔ ان کے مطابق اس سے تعاون کے لیے زیادہ قابل پیش گوئی قانونی بنیاد میسر آ سکتی ہے اور مجرموں کے لیے دائرہ اختیار کی حدود سے فائدہ اٹھانا مشکل ہو جائے گا۔
جاوید حسن نے اس سطح کی ملاقاتوں کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی وزیر داخلہ نے پاکستان کے آرمی چیف، وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کے بنیادی فیصلہ ساز اداروں کی حمایت حاصل ہے، صرف ایک وزارت کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی اور خارجہ پالیسی پر فوج کے اثر و رسوخ کے پیش نظر عاصم منیر کی شمولیت عمل درآمد برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہے، تاہم اس سے نتائج کی ضمانت نہیں ملتی۔