ماسکو (صداۓ روس)
روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ روس موجودہ طویل المدتی معاہدوں کے تحت بھی یورپ کو توانائی کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ روسی انرجی ویک کے مکمل اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روس زیادہ مقدار میں فراہمی کے لیے آمادہ ہے، اور سستی اور مستحکم روسی توانائی سے انکار روس نے نہیں کیا بلکہ یورپ نے سیاسی وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس بدستور اپنے معاہدوں کی تکمیل کے لیے تیار ہے۔
نوواک نے واضح کیا کہ یورپ کے ساتھ معاہدے طویل المدتی ہیں اور گیس کی فراہمی کے سمجھوتے 2035 سے 2040 تک نافذ العمل رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان معاہدوں کے تحت فراہمی لینے سے یکطرفہ انکار موجودہ قانونی اور ضابطہ جاتی ڈھانچے پر مبنی فیصلہ نہیں، بلکہ سیاسی محرکات پر مبنی قدم ہے جو خود یورپی صارفین کے مفاد میں نہیں۔
نوواک نے کہا کہ روس مغربی یورپ کو 1960 کی دہائی سے تیل اور گیس کے طویل المدتی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے توانائی فراہم کرتا رہا ہے اور آج عالمی منڈیوں کے لیے بھی ایک قابل اعتماد سپلائر ہے۔ ان کے مطابق 2022 سے اب تک روس نے یورپ کو 320 ارب ڈالر مالیت کے توانائی وسائل فراہم کیے، جن میں 2026 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 21.3 ارب ڈالر شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپ نے جب سے روس کی سستی اور مستحکم فراہمی سے منہ موڑا ہے، اس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، مگر اس وقت سیاست ان عقلی فیصلوں پر غالب ہے جو صارفین کے لیے فائدہ مند ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ میں کئی صنعتی سرگرمیاں دوسرے ممالک منتقل ہو چکی ہیں، اور دیوالیہ پن اور کاروبار بند ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
نوواک نے روسی ڈیزل کی فراہمی پر یورپی یونین کی تنقید کو بھی یورپی صارفین کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ ان کے مطابق روس امریکا ڈیزل معاہدہ تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اور روس عالمی توانائی منڈیوں میں توازن قائم رکھنے اور طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد پر توانائی کی سلامتی میں اپنا کردار برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ روس کے وزیر توانائی سرگئی تسیویلیف نے اجلاس کے موقع پر کہا کہ ماسکو نئے ذخائر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے طویل المدتی گیس معاہدے کرنا چاہتا ہے۔