امریکی افواج ٹرمپ کے حکم کے 96 گھنٹوں میں ایران پر نئے حملے کے لیے تیار

US aircraft carrier US aircraft carrier

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

سی این این نے دو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے 96 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف نئی اور ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر سکتی ہیں۔

نشریاتی ادارے کے مطابق خطے میں اس نوعیت کے حملوں کے لیے کافی افواج پہلے ہی تعینات کی جا چکی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یہ کارروائیاں ان محدود حملوں سے آگے جا سکتی ہیں جو امریکہ نے رواں سال کے آغاز میں مکمل دشمنی معطل کرنے کے بعد راڈاروں، لانچروں اور دیگر ایرانی تنصیبات پر کیے تھے، جنہیں جلد بحال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سوال حکم جاری ہونے کا نہیں بلکہ اس کے وقت کا ہے۔ حکام کے خیال میں یہ سال کے اختتام سے قبل ہو سکتا ہے، لیکن امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد امکان زیادہ ہے، تاہم ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

سی این این کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون نے اہداف کی ایک وسیع فہرست تیار کر لی ہے، جس میں ایرانی توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، فوجی تنصیبات اور جوہری مقامات شامل ہیں۔ امریکی انٹیلیجنس جائزوں کے مطابق کسی بھی حملے کی صورت میں ایران اور یمن کی انصار اللہ تحریک کے حوثی باغی فوری طور پر خطے اور اس سے باہر امریکی فوجیوں اور تنصیبات پر حملے کر کے جواب دیں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ جون میں واشنگٹن اور تہران نے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری طور پر دشمنی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ تاہم 8 جولائی کی ابتدائی صبح امریکہ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کیے اور اس پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 25 فیصد اور عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اس کے بعد واضح طور پر اشارہ دیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی طاقت کے استعمال سے باز رہے گی اور اس کے بجائے پابندیوں کے ذریعے ملک کا معاشی گلا گھونٹنے کی کوشش کرے گی۔