ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس نے سینیٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بلومبرگ کے تخمینے کے مطابق ڈیموکریٹس سینیٹ میں کم از کم 51 نشستیں حاصل کر لیں گے، جس سے انہیں ایوان بالا میں اکثریت مل جائے گی۔
موجودہ اجلاس میں ریپبلکن کے پاس سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 53 نشستیں ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کی حمایت کرنے والے آزاد امیدواروں کے پاس 47 نشستیں ہیں۔
ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں کامیابی ایسی ریاستوں میں سامنے آئی ہے جو طویل عرصے سے ریپبلکن کا گڑھ سمجھی جاتی ہیں۔ ٹیکساس میں جیمز تالاریکو نے ریپبلکن کین پیکسٹن کو شکست دے کر 1988 کے بعد ریاست سے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ سینیٹر بن گئے۔ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے 1932 کے بعد پہلی بار یہ نشست ڈیموکریٹس کے لیے جیتی۔ اوہائیو میں شیروڈ براؤن نے ریپبلکن جون ہسٹڈ کو ہرا کر نشست حاصل کی۔ ساؤتھ کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے 1998 کے بعد پہلی بار یہ نشست ڈیموکریٹس کے لیے جیتی۔ آئیووا میں جوش ٹوریک نے ریپبلکن جونی ارنسٹ کو شکست دی۔
مائن میں ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والی ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو ہرا کر 1988 کے بعد پہلی بار یہ نشست ڈیموکریٹس کے لیے حاصل کی۔ شمالی کیرولائنا میں رائے کوپر نے ریپبلکن مائیکل واٹلی کو شکست دی۔ مشی گن میں عبدالسیید نے ریپبلکن مائیک راجرز کو ہرا کر پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بن گئے۔ مینیسوٹا میں پیگی فلاناگن نے کامیابی حاصل کی اور پہلی مقامی امریکی خاتون سینیٹر بن گئیں۔
ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس نے واضح برتری حاصل کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیموکریٹس نے 218 نشستیں حاصل کر کے ایوان زیریں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس نتیجے کے بعد ڈیموکریٹس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے آخری دو سالوں میں ریپبلکن قانون سازی کو روکنے اور ان کی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا اختیار مل جائے گا۔