ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے منگل کے روز امریکہ کے ساتھ اس سلامتی معاہدے کی توثیق کر دی ہے جس پر رواں سال ستمبر میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو اس آرکٹک جزیرے پر اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی اجازت ملے گی۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ستمبر میں طے پایا تھا، جس کا مقصد ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی بار بار دھمکیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ اس معاہدے میں امریکہ کے فوجی کردار کی توسیع، دو نئے فوجی اڈوں کی تعمیر اور ٹرمپ کے “گولڈن ڈوم” میزائل دفاعی نظام کی تعیناتی کی راہ ہموار کی گئی ہے، جبکہ ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔
منگل کے روز ووٹنگ میں 16 ارکان نے معاہدے کے حق میں ووٹ دیا، کوئی بھی مخالف نہیں تھا، جبکہ 7 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ پہلی بحث میں ارکان کی اکثریت نے حمایت کا اشارہ دے دیا تھا۔
گرین لینڈ کے وزیر خارجہ موتے ایجیدی نے اس توثیق کو جزیرے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ تاہم حزب اختلاف کی نالیراق پارٹی کے رہنما پیلے بروبرگ نے معاہدے کے معاشی فوائد پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس معاہدے سے کوئی معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ اس ایگزیکٹو معاہدے کو ابھی ڈنمارک کی پارلیمنٹ سے منظوری کی ضرورت ہے۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ 11 نومبر کو پہلی خواندگی کرے گی، جس کے بعد 19 نومبر کو دوسری خواندگی اور حتمی ووٹنگ ہوگی۔ یہ معاہدہ ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں کی توثیق کے بعد نافذ العمل ہوگا اور اسے امریکی سینیٹ کی منظوری کی ضرورت نہیں۔
دریں اثنا، امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کے روز فاکس نیوز کو بتایا کہ یورپ نے امریکہ کو “اب تک کا سب سے بڑا تحفہ” دیا ہے، اور ان کا اشارہ گرین لینڈ اور اس فوجی معاہدے کی طرف تھا۔ بعد ازاں ایک اور شریک نے وضاحت کی کہ ٹرمپ کا اشارہ “فوجی معاہدے” کی طرف تھا۔