سوچی (روس) — اشتیاق ہمدانی
روس کے ساحلی شہر سوچی میں 30واں فورم آف ماڈرن جرنلزم ’’آل رشیا — 2026‘‘ جاری ہے، جہاں روس کے 89 خطوں سمیت مختلف ممالک سے ایک ہزار سے زائد صحافی، میڈیا ماہرین، مدیران اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات شریک ہیں۔ فورم میں صحافت کو درپیش موجودہ چیلنجز، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، علاقائی میڈیا، صحافتی اخلاقیات اور مشکل حالات میں کام کرنے والے صحافیوں کی پیشہ ورانہ تیاری سمیت متعدد اہم موضوعات زیر بحث ہیں۔ فورم کے موقع پر یونین آف جرنلسٹس آف رشیا کے صدر ولادیمیر گینادیویچ سولوویوف نے ’’صدائے روس‘‘ کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’آل رشیا‘‘ اپنی 30 سالہ تاریخ میں روسی صحافتی برادری کے ایک بڑے پیشہ ورانہ پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ولادیمیر سولوویوف نے فورم کے 30 سال مکمل ہونے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض چند روزہ کانفرنس نہیں بلکہ صحافیوں کے درمیان تجربات، مسائل اور نئے رجحانات پر سنجیدہ پیشہ ورانہ مکالمے کا پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا یہ ہمارا تیسواں، جوبلی فورم ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا صحافتی فورم ہے۔ ایسا دنیا میں کوئی اور نہیں کرتا۔ یہ عام طور پر ایک ہفتے تک جاری رہتا ہے اور ہمارے ہاں تقریباً ایک ہزار شرکاء ہوتے ہیں۔ فورم کی سرکاری معلومات کے مطابق ’’آل رشیا — 2026‘‘ کی سرگرمیاں 25 سے 31 اگست تک جاری ہیں، جبکہ 30 اگست کو کاروباری پروگرام کی تکمیل اور اختتامی تقریب رکھی گئی ہے۔ فورم میں لیکچرز، ماسٹر کلاسز، گول میز مباحثے، نئے میڈیا منصوبوں کی پیشکش اور نمائشیں شامل ہیں۔
سولوویوف نے ’’صدائے روس‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ فورم کا دائرہ ہر سال وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 80 پروگراموں میں 60 سے زیادہ مقررین نے شرکت کی تھی۔ رواں سال بھی روس کی صحافت، ریاستی اداروں اور میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات فورم میں شریک ہوئیں۔ سولوویوف نے خصوصی طور پر روسی صدارتی انتظامیہ کے شعبہ برائے عوامی منصوبہ جات کے سربراہ سرگئی نوویکوف اور معروف جنگی نامہ نگار اور ہیرو آف رشیا یفگینی پودوبنی کی شرکت کا ذکر کیا۔ فورم کی مرکزی نشست ’’میڈیا چیلنجز اور ان کے حل‘‘ میں بھی سولوویوف اور پودوبنی کے علاوہ ماسکو یونین آف جرنلسٹس کے سربراہ پاویل گوسیف اور روسی وزارتِ ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کی نمائندہ یکاترینا لارینا سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔
فورم کے اہم موضوعات میں سے ایک مشکل اور خطرناک حالات میں صحافیوں کی عملی تیاری بھی ہے۔ ولادیمیر سولوویوف نے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافی، خصوصاً فیلڈ اور تنازعات والے علاقوں میں کام کرنے والے نامہ نگار، صرف خبر اکٹھی کرنے کی مہارت تک محدود نہیں رہ سکتے۔ انہیں ہنگامی حالات میں درست ردعمل اور ابتدائی طبی امداد جیسے بنیادی حفاظتی اصولوں سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہم اپنے ساتھیوں کو وہ تمام ضروری طریقے سکھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کسی خطرناک صورتحال میں وہ اپنی جان محفوظ رکھ سکیں اور اپنا پیشہ ورانہ فرض بھی پورا کر سکیں۔ ان کے مطابق فورم میں تجربہ کار جنگی نامہ نگار اپنے عملی تجربات دوسرے صحافیوں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں تاکہ مشکل حالات میں کام کرنے والے میڈیا نمائندے ممکنہ خطرات کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔
30ویں فورم کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی نمائندگی بھی ہے۔ رواں سال روس کے 89 خطوں سے آنے والے نمائندوں کے علاوہ بیلاروس، چین، شمالی کوریا اور ابخازیا کے میڈیا نمائندگان بھی فورم میں شریک ہوئے ہیں۔ سولوویوف نے بتایا کہ چین کی صحافتی تنظیم کا ایک بڑا وفد سوچی پہنچا، جبکہ پہلی مرتبہ شمالی کوریا کے صحافیوں کا وفد بھی فورم میں شریک ہوا۔ ان کے بقول مختلف ممالک کے صحافیوں کی شرکت فورم کے بین الاقوامی کردار کو مزید مضبوط کر رہی ہے اور پیشہ ور صحافیوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے براہِ راست استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
’’صدائے روس‘‘ کے ساتھ انٹرویو میں روسی جریدے ’’پرسونا سترانی‘‘ (Персона страны) کی فورم میں سرگرمیوں اور یونین آف جرنلسٹس آف رشیا کے ساتھ تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔ ولادیمیر سولوویوف نے جریدے کو ایک سنجیدہ اور معتبر اشاعت قرار دیتے ہوئے کہا یہ ایک بہت سنجیدہ اور معتبر جریدہ ہے۔ یہ ہمارے ملک کی اہم شخصیات کے بارے میں لکھتا ہے، جن میں ہمارے ملک کے صدر اور دوسری معروف شخصیات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے جریدے کی چیف ایڈیٹر یلیزاویتا ابرامووا کی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا اور بالخصوص مشکل حالات میں کام کرنے والے صحافیوں کی تیاری اور جنگی صحافت کے شعبے میں کیے جانے والے کام کو اہم قرار دیا۔
’’پرسونا سترانی‘‘ نے فورم کے دوران خصوصی نشست بھی منعقد کی، جس میں انٹرویو کی تکنیک، اطلاعاتی تحفظ اور مختلف ممالک کے صحافیوں کے ساتھ کام کرنے جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ سولوویوف نے کہا اب ہم نے اپنی کوششوں کو یکجا کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے ہماری صحافتی برادری کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔ گفتگو کے اختتام پر اشتیاق ہمدانی نے فورم کے بین الاقوامی دائرہ کار کو مزید وسعت دینے اور پاکستانی صحافیوں کو اس پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کے امکان پر سوال کیا۔ اس پر یونین آف جرنلسٹس آف رشیا کے صدر نے پاکستانی صحافیوں کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں آئندہ فورم میں شرکت کی دعوت دی۔
ولادیمیر سولوویوف نے کہا ہم پاکستانی صحافیوں کے وفد کا بھی بڑی خوشی سے استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ اگلے سال ستمبر میں یہاں سوچی میں ہونے والے ہمارے آئندہ فورم میں شرکت کریں۔ ہمیں خوشی ہوگی۔ پاکستانی صحافیوں کے لیے یہ دعوت دونوں ممالک کی صحافتی برادریوں کے درمیان براہِ راست رابطے، پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور پاکستان۔روس میڈیا تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔