لبنان پر حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا دیں گے، ایرانی صدر کا انتباہ

Iranian president Masoud Pezeshkian Iranian president Masoud Pezeshkian

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر جاری حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا دیں گے۔ اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اور ایران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے خطرناک دھوکہ دہی کی علامت ہیں، اور اگر جارحیت جاری رہی تو مذاکرات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ بندی تجاویز میں لبنان اور مزاحمتی قوتیں بھی شامل ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات سے قبل ہی مجوزہ 10 نکاتی منصوبے کے تین اہم نکات کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے، جن میں ایران کی فضائی حدود میں بغیر اجازت ڈرون کی پرواز، یورینیئم افزودگی کے حق سے انکار اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی شامل ہیں۔ قالیباف کے مطابق اس صورتحال میں دو طرفہ جنگ بندی یا مذاکرات غیر معقول ہو جاتے ہیں۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کے نائب صدر JD Vance نے کہا کہ اگرچہ کچھ نکات پر اختلاف موجود ہے، تاہم کئی امور پر اتفاق بھی پایا جاتا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔