ماسکو (صداۓ روس)
روسی حکومت نے پٹرول کی برآمد پر عائد پابندی کو 31 جولائی 2026 تک مزید بڑھا دیا ہے۔ اب یہ پابندی براہ راست پٹرولیم مصنوعات پیدا کرنے والے پروڈیوسرز پر بھی موثر ہوگی۔ وزارت کابینہ کی پریس سروس نے بتایا کہ متعلقہ ڈگری کا اجرا کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ گھریلو ایندھن کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر موسم کی زیادہ طلب اور زرعی کاموں کے دوران۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ تاہم یہ پابندی بین الاقوامی بین الحکومتی معاہدوں کے تحت کی جانے والی سپلائی پر موثر نہیں ہو گی. یہ قرارداد اس کے سرکاری طور پر شائع ہونے کے دن سے نافذ العمل ہو جائے گی۔