یوکرینی ڈرون حملے میں روس کے برائنسک خطے کا ریلوے پل منہدم

Russian Railways Russian Railways

ماسکو (صداۓ روس)

یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کے برائنسک خطے میں ریلوے پل اور تین مقامات پر ریلوے پٹریوں کو نقصان پہنچا، جس کے باعث متعدد مال بردار ٹرینوں کے ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ خطے کے قائم مقام گورنر ایگور کووالچک نے بتایا کہ واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ گورنر کے مطابق دیاٹکووو اور لیودینووو کے درمیان ریلوے سیکشن میں واقع ایک پل کا حصہ منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں ٹرین کے 10 ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ ایک اور حملے میں یونیچا ضلع میں 18 خالی مال بردار ڈبے بھی پٹری سے اتر گئے۔ ان کے مطابق یونیچا میں مرمتی کام روسی نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کی جانب سے علاقے کا معائنہ مکمل ہونے کے بعد شروع کیا جائے گا۔ تیسرے حملے میں ناولیا ضلع میں ریلوے پٹریوں کو نقصان پہنچا، تاہم اس واقعے سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوئی اور کسی جانی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔

روسی ریلوے حکام نے بھی خطے میں ٹرینوں کی آمدورفت عارضی طور پر متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ مقام پر مرمتی کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ مسافروں کی سہولت کے لیے متبادل بس سروس بھی فراہم کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین کی جانب سے حالیہ مہینوں میں روسی ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ جون میں ایک ڈرون نے ماسکو سے سمفروپول جانے والی مسافر ٹرین کے انجن کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں معاون ڈرائیور ہلاک اور ڈرائیور زخمی ہوگیا تھا۔ اسی ماہ برائنسک خطے کے پیشانیکی اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین کے ڈرائیونگ کیبن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں معاون ڈرائیور زخمی ہوا۔ مارچ میں سوزیمکا شہر میں بھی ایک ٹرین کے ڈرائیونگ کیبن کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور بعد ازاں ٹرین سروس بحال کردی گئی۔

گزشتہ ہفتے بھی یوکرینی ڈرون نے روس کے سمارا خطے میں ایک مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ علاقہ روس اور یوکرین کی سرحد سے 500 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ سمارا کے گورنر ویاچسلاو فیدوریشچیف کے مطابق حملے میں ٹرین کے برقی انجن اور پہلے ڈبے کو نقصان پہنچا، تاہم ٹرین پٹری سے نہیں اتری اور مسافروں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ ماسکو طویل عرصے سے کیف پر دہشت گردانہ کارروائیوں کے حربے اختیار کرنے اور روسی آبادی میں خوف پھیلانے کے لیے شہریوں اور غیر جنگجو افراد کو دانستہ نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ کیف کے غیر ملکی حمایتیوں نے ایک ایسا ’’عفریت‘‘ تشکیل دیا ہے جو بالآخر قابو سے باہر ہوکر مغربی شہریوں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ روس نے یوکرین کے فوجی بنیادی ڈھانچے اور دفاعی تنصیبات پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ماسکو کے مطابق اس کے اقدامات کا مقصد یوکرینی فوجی رسد کے لیے اہم تنصیبات، بحیرہ اسود میں نقل و حمل اور ملک کے مختلف حصوں میں ایندھن کی فراہمی کو متاثر کرنا ہے۔