ماسکو (صداۓ روس)
روس میں چاکلیٹ کی قیمت گزشتہ چھ ماہ سے مسلسل کم ہو رہی ہے، جبکہ کافی کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایزویسٹیا کی ایک رپورٹ کے مطابق چاکلیٹ کی قیمت میں یہ کمی عالمی کوکو کی قیمتوں میں گزشتہ کمی کا عکس ہے، تاہم یہ رجحان عارضی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ کوکو اور کافی کی ایکسچینج قیمتیں ایک بار پھر بڑھ رہی ہیں۔ جنوری سے جون 2026 تک روس میں 1 کلو چاکلیٹ کی اوسط قیمت 1,554.06 روبل سے کم ہو کر 1,527.87 روبل ہو گئی، جس میں 1.7 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ کمی عالمی منڈی میں کوکو کی قیمتوں میں گراوٹ کا نتیجہ ہے، جو جنوری سے جون تک تقریباً 16 فیصد کم ہو کر 4,160 ڈالر فی ٹن رہ گئی۔ تاہم خوردہ قیمتوں میں یہ اثر مہینوں بعد ظاہر ہوا۔ فروری 2026 میں کوکو کی قیمت 3,000 ڈالر فی ٹن تک گر گئی، جو جون 2023 کے بعد کم ترین سطح تھی، جبکہ دسمبر 2024 میں یہ قیمت 12,900 ڈالر فی ٹن سے تجاوز کر گئی تھی۔
دوسری جانب کافی کی قیمتوں میں کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ شروع ہو گیا ہے۔ جولائی 2026 میں عربیکا اور روبسٹا کافی کی قیمتوں میں بالترتیب 10 اور 8 فیصد اضافہ ہوا، جو تقریباً 7,500 اور 4,000 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی اہم وجوہات میں ویتنام اور انڈونیشیا میں ال نینو کے اثرات سے فصلوں میں کمی کا امکان، مصدقہ گوداموں میں کافی کے کم ذخائر اور برازیل کے جنوبی علاقوں میں سردی کے خطرات شامل ہیں۔
روس عالمی کافی مارکیٹ کا تقریباً 5 فیصد حصہ ہے اور ملک کے گرم مشروبات کی مارکیٹ میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ کافی کا ہے۔ ماہرین پیش گوئی کرتے ہیں کہ اگلے پانچ سالوں میں کافی کی قیمتوں میں سالانہ 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم روبل کی مضبوطی عالمی قیمتوں میں اضافے کو جزوی طور پر متوازن کر سکتی ہے۔
روسی پروڈیوسرز پر کوکو اور کافی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ 2026 کے آغاز سے کوکو بٹر، کوکو ماس اور کوکو پاؤڈر کی قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، مگر کمپنیاں فی الحال اپنے ذخائر اور موجودہ معاہدوں کو استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم اگر خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری رہا تو 2026 کی دوسری ششماہی میں فروخت کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی دکانوں میں چاکلیٹ کی قیمتوں میں کمی کا دور خزاں تک ختم ہو سکتا ہے، جبکہ کافی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ کمپنیاں بڑھتی ہوئی لاگت کو چاکلیٹ، چاکلیٹ کینڈی اور کافی مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل کر سکتی ہیں، تاہم مختلف برانڈز میں قیمتوں میں تبدیلی کی شرح مختلف ہوگی کیونکہ یہ خام مال کے ذخائر، معاہدے کی شرائط اور مینوفیکچررز کی خریداری پالیسیوں پر منحصر ہے۔