تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور پاکستانیوں کے معاشی حالات

Petrol Petrol

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر ہونے والا اضافہ اس وقت ملکی معیشت اور عوامی زندگی کا سب سے سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ تیل کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور روزمرہ زندگی کا پہیہ چلانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جب اس بنیادی ضرورت کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں تو اس کے اثرات براہ راست عام آدمی کی جیب پر پڑتے ہیں۔ پاکستان کی اکثریت پہلے ہی غربت، بے روزگاری اور کم اجرت جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے، ایسے میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کی کمر توڑ رہا ہے اور متوسط و غریب طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی ایک امتحان بن گیا ہے۔تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سب سے پہلا اور براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑتا ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور ریلوے کے کرائے بڑھنے سے مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں یکدم بڑھ جاتی ہیں۔ اس صورتحال نے ملک میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا ہے جس پر قابو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدنی محدود ہے لیکن ان کے کچن کے اخراجات، بچوں کی اسکول کی فیسیں اور یوٹیلیٹی بلز دگنے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اپنی بنیادی ضروریات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں۔اس بحران کا ایک اور تاریک پہلو ملکی صنعت و تجارت پر پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے کارخانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتیں۔

لاگت بڑھنے کے باعث بہت سے چھوٹے کاروبار اور کارخانے بند ہو رہے ہیں، جس سے بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجر برادری اور صنعت کار بھی اس غیر یقینی صورتحال سے شدید پریشان ہیں کیونکہ قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے وہ مستقبل کی طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے سے قاصر ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق اس بحران کی بنیادی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری سرکاری ٹیکسز شامل ہیں۔ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل باہر سے درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے ملکی خزانے پر ڈالر کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ جب تک حکومت توانائی کے متبادل ذرائع جیسے کہ شمسی توانائی، ہوا اور پانی سے بجلی بنانے پر توجہ نہیں دے گی اور پیٹرولیم پر انحصار کم نہیں کرے گی، تب تک عوام کو اس مستقل معاشی عذاب سے نجات ملنا ناممکن نظر آتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جس سے غریب عوام کو براہ راست ریلیف مل سکے۔