ماسکو (صداۓ روس)
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے خبردار کیا ہے کہ نیٹو میں تقسیم کے باوجود یورپی یونین کی فوجی تعمیر نو اسے روس کے لیے امریکہ کی قیادت والے بلاک سے زیادہ سنگین فوجی خطرہ بنا سکتی ہے۔ جمعہ کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں میدویدیف نے کہا کہ نیٹو میں تقسیم واضح ہے، اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران جنگ میں یورپی حمایت نہ ملنے پر نیٹو سے نکلنے کی دھمکی شاید عملی شکل نہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنازع یورپی رہنماؤں کو ایک آزاد اور مکمل فوجی جزو قائم کرنے کی طرف تیزی سے بڑھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔میدویدیف نے کہا، “یورپی یونین اب صرف ایک معاشی اتحاد نہیں رہا۔ یہ تیزی سے ایک مکمل فوجی اتحاد میں تبدیل ہو سکتا ہے جو روس کے لیے کھلے عام دشمنانہ ہو اور بعض اعتبار سے نیٹو سے بھی زیادہ خطرناک ہو۔”
انہوں نے زور دیا کہ ماسکو کو یورپی یونین کی توسیع کی مخالفت میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں تک روس یورپی یونین کو صرف ایک معاشی پروجیکٹ سمجھتا تھا جس کی فوجی اہمیت محدود تھی، جبکہ نیٹو کی توسیع کو براہ راست خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ میدویدیف نے یاد دلایا کہ 2014 میں کیئف میں ہونے والا انقلاب برسلز کی جانب سے یوکرین پر یورپی یونین کے ایسوسی ایشن معاہدے پر دستخط کرنے کے دباؤ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اب روس کے لیے ایک اسٹریٹجک فوجی خطرہ بن چکا ہے، خاص طور پر یورپی اداروں اور کئی یورپی حکومتوں میں موجود شدید مخالفانہ رویے کی وجہ سے۔