ڈوروف نے یورپی یونین کو ‘بنانا ریپبلک’ قرار دے دیا

Telegram founder and CEO Pavel Durov Telegram founder and CEO Pavel Durov

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ٹیلی گرام کے شریک بانی پاول ڈوروف نے یورپی یونین پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ‘بنانا ریپبلک’ (banana republic) قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ترقی پذیر ممالک کی مشکوک قانونی چالوں کا سہارا لے کر متنازعہ قوانین منظور کروا رہا ہے .

ڈوروف کا یہ ردعمل یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ‘ چیٹ کنٹرول ‘ قانون کو دوبارہ زندہ کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے . اس قانون کے تحت ٹیک کمپنیوں کو بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی نشاندہی کے لیے صارفین کے پیغامات اسکین کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ڈوروف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “ایسی چالیں، جو کبھی کیلے کی جمہوریہ کی خاصیت تھیں، اب یورپی یونین نگرانی کے قوانین منظور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے” . انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ قانون اس وقت منظور کیا گیا جب زیادہ تر اراکین پارلیمنٹ گرمیوں کی چھٹیوں پر تھے، جسے انہوں نے ایک ” ہنگامی ووٹنگ ” کا عمل قرار دیا . ڈوروف نے واضح کیا کہ ٹیلی گرام یورپی یونین کے فیصلوں کے باوجود صارفین کے ذاتی پیغامات کو اسکین نہیں کرے گا . ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس قانون کے پیچھے “بڑی اور بااثر قوتیں” ہیں جو یورپی یونین کی پالیسیوں میں ہیرا پھیری کر سکتی ہیں .