بچپن میں جنک فوڈ کا زیادہ استعمال دماغی نظام پر مستقل اثرات چھوڑ سکتا ہے، تحقیق

Junk food Junk food

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بچپن کے دوران زیادہ چکنائی اور شکر والی غیر صحت بخش غذاؤں، جنہیں عام طور پر جنک فوڈ کہا جاتا ہے، کا مسلسل استعمال دماغ کے بھوک اور خوراک سے متعلق نظام میں دیرپا تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق بچپن میں بننے والی غذائی عادات دماغ پر اتنے گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں کہ بعد کی زندگی میں صحت مند غذا اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے کے باوجود ان کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد میں مستقبل میں زیادہ کھانے کی خواہش اور غیر متوازن غذائی رجحانات برقرار رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان اثرات کی شدت لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق لڑکیاں ان منفی اثرات سے نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر طویل المدتی نتائج مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

ماہرین نے آنتوں میں موجود مفید جراثیم، یا “گُڈ بیکٹیریا”، کے کردار کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جراثیم دماغ اور جسم کے درمیان رابطے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، لیکن غیر صحت بخش غذا کا مسلسل استعمال اس نظام کو متاثر کر کے جسمانی اور ذہنی نشوونما کو سست کر سکتا ہے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو ابتدائی عمر سے متوازن، قدرتی اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دماغی صلاحیتوں، تعلیمی کارکردگی اور مجموعی نشوونما کے لیے بھی ضروری ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنک فوڈ کا مسلسل استعمال موٹاپے، دانتوں کی خرابی اور دیگر طبی مسائل کے ساتھ ساتھ ایسی غذائی عادات کو بھی جنم دے سکتا ہے جو پوری زندگی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔