روس کی جانب سے ایوی ایشن فیول برآمدات پر پابندی، یورپی ممالک کو جھٹکا

Airport Airport

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

چینی میڈیا نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے ایوی ایشن فیول کی برآمدات معطل کرنے کا فیصلہ یورپی ممالک کے لیے ایک غیر متوقع اور ناخوشگوار پیش رفت ثابت ہوا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈی اور یورپ کے فضائی سفر کے شعبے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ چینی میڈیا پلیٹ فارم **Baijiahao** کے مطابق روس نے اپنے داخلی ایندھن بازار کو مستحکم رکھنے کو ترجیح دیتے ہوئے ایوی ایشن فیول کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے یورپی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور فضائی سفر کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کے باعث عالمی توانائی منڈی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران یورپ میں فضائی ایندھن کی طلب عروج پر ہوتی ہے، جس کے باعث روسی برآمدات کی معطلی یورپی سیاحتی اور ہوابازی صنعت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ روسی حکومت نے 2 جون کو ایوی ایشن کیروسین کی برآمدات پر پہلی مرتبہ عارضی پابندی عائد کی تھی، جو 30 نومبر 2026 تک نافذ رہے گی۔ روسی کابینہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملکی ایندھن مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ پابندی سے قبل کسٹم طریقہ کار کے تحت منظور شدہ کھیپوں، بین الحکومتی معاہدوں کے تحت سپلائی اور بین الاقوامی پروازوں کے دوران استعمال ہونے والے ایندھن کو اس فیصلے سے استثنا حاصل ہوگا۔