ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے جہاں 2025 کے وقت تھی، آئی اے ای اے

Rafael Grossi Rafael Grossi

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی افزودہ (Enriched) یورینیم غالباً اب بھی انہی جوہری تنصیبات میں موجود ہے جنہیں 2025 میں حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ غیر معمولی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ادارے کا عمومی اندازہ یہی ہے کہ افزودہ یورینیم اپنی سابقہ جگہ پر موجود ہے۔ ان کے مطابق ایرانی حکام نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے۔

گروسی نے کہا ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ یہ مواد اسی مقام پر موجود ہے جہاں گزشتہ سال حملوں کے وقت تھا۔ یہی عمومی رائے ہے اور ایرانی حکام نے بھی اس کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ International Atomic Energy Agency کو ہر صورت ایران واپس جا کر معائنہ کرنا ہوگا تاکہ جوہری مواد کی درست مقدار اور اس کے مقام کی تصدیق کی جا سکے۔ یہ ہنگامی اجلاس Egypt، Jordan، Morocco اور Saudi Arabia کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ آئی اے ای اے کا مؤقف ہے کہ جوہری مواد کی موجودہ صورتحال کی تصدیق کے لیے زمینی معائنہ اور تکنیکی جانچ ناگزیر ہے۔