کانچ کے ٹکڑوں پر زندگی کی تلاش: ماسکو سے اسٹاروبیلسک تک ایک دردناک صحافتی سفر –

اشتیاق ہمدانی

حصہ اول:

میں ان پچاس سے زائد غیر ملکی صحافیوں میں شامل تھا جنہیں روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے لوہانسک عوامی جمہوریہ کے شہر اسٹاروبیلسک لے جایا گیا، جہاں ایک تعلیمی ادارہ حالیہ حملے کا نشانہ بنا تھا۔ اس دورے کے دوران مجھے تباہ شدہ عمارتوں، زخمی طلبہ، سوگوار ماحول اور ان خاموش نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا جو ایک المناک رات کی داستان سنا رہی تھیں۔

صحافت کے شعبے میں کام کرتے ہوئے جنگوں، تنازعات اور انسانی المیوں سے متعلق بے شمار خبریں دیکھی اور سنیں، لیکن بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جو خبر نہیں رہتے بلکہ انسان کے دل و دماغ پر مستقل نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ اسٹاروبیلسک کا یہ سفر بھی میرے لیے ایسا ہی ایک تجربہ تھا۔

ہفتے کے روز میں معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کا ایک خصوصی وفد اگلے روز لوہانسک عوامی جمہوریہ کے شہر اسٹاروبیلسک جا رہا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں ایک تعلیمی ادارہ حملے کا نشانہ بنا تھا۔

فون کال ختم ہونے کے بعد میرے ذہن میں یہی خیال تھا کہ شاید یہ ایک محدود نوعیت کا دورہ ہوگا اور اس میں دس بارہ غیر ملکی صحافی شریک ہوں گے۔ میں نے شرکت کی تصدیق کی اور اپنے ساتھی اور نوجوان ویڈیو جرنلسٹ حسن رضا کے ساتھ اگلی صبح پانچ بجے روسی وزارتِ خارجہ پہنچ گیا۔

لیکن وزارتِ خارجہ پہنچتے ہی میری یہ سوچ غلط ثابت ہوئی۔

وہاں غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مختلف زبانیں بولنے والے صحافی اپنے کیمروں، بیگز اور ریکارڈنگ کے سامان کے ساتھ جمع تھے۔ کچھ چہرے مختلف بین الاقوامی فورمز اور کانفرنسوں سے شناسا تھے جبکہ کئی نئے صحافی بھی موجود تھے۔

تھوڑی دیر بعد ہمیں بسوں کے ذریعے ایک ائیربیس لے جایا گیا۔ وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ دو بڑی بسوں میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے پچاس سے زائد صحافی موجود ہیں۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس وفد میں انیس ممالک کے نمائندے شامل تھے، جن میں آسٹریا، برازیل، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، چین، متحدہ عرب امارات، امریکہ، ترکی، فرانس اور دیگر ممالک کے صحافی شامل تھے۔

اسی لمحے احساس ہوا کہ یہ کوئی معمول کا میڈیا ٹور نہیں بلکہ ایک اہم اور غیر معمولی صحافتی مشن ہے، جس کا مقصد مختلف ممالک کے صحافیوں کو خود حالات کا مشاہدہ کرانا تھا۔

اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس سفر کی سب سے گہری یاد نہ کوئی سرکاری بریفنگ بنے گی، نہ کوئی پریس کانفرنس اور نہ ہی کوئی سیاسی بیان۔ چند گھنٹوں بعد اسٹاروبیلسک کے ہاسٹل میں بکھرے کانچ کے ٹکڑے اور کمروں میں موجود روزمرہ زندگی کی خاموش نشانیاں میرے ذہن پر ایسی نقش چھوڑ جائیں گی جو آج بھی اس سفر کو یاد کرتے ہی تازہ ہو جاتی ہیں۔


خصوصی طیارے نے اڑان بھری تو جہاز میں غیر معمولی سنجیدگی تھی۔ عام طور پر صحافیوں کے ایسے دوروں میں ہلکی پھلکی گفتگو اور دوستانہ ماحول دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن اس روز صورتحال مختلف تھی۔ ہر شخص جانتا تھا کہ وہ ایک ایسے مقام پر جا رہا ہے جہاں حالیہ انسانی المیہ ابھی تازہ تھا۔

تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم لوہانسک پہنچے اور وہاں سے سخت سکیورٹی اور خصوصی پروٹوکول کے ساتھ اسٹاروبیلسک روانہ ہوئے۔

اسٹاروبیلسک کوئی بہت بڑا شہر نہیں۔ پہلی نظر میں یہ ایک پرسکون اور عام سا شہر محسوس ہوتا ہے جہاں لوگ اپنی روزمرہ زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔ سڑکوں پر گاڑیاں چل رہی تھیں، لوگ آ جا رہے تھے اور زندگی مکمل طور پر رکی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

لیکن جوں جوں ہم شہر کے اندر داخل ہوتے گئے، ایک عجیب سی خاموشی اور اداسی محسوس ہونے لگی۔

کالج کے آس پاس موجود کئی دکانیں بند تھیں۔ اگرچہ شہر کے دوسرے حصوں میں معمولاتِ زندگی جاری تھے، مگر لوگوں کے چہروں پر افسردگی نمایاں تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا شہر ابھی تک اس سانحے کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکا۔

یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا۔

ایسا شہر جہاں کبھی زندگی کی چہل پہل ہوا کرتی ہوگی۔

جہاں صبحیں طلبہ کی آوازوں سے جاگتی ہوں گی۔

جہاں نوجوان اپنے خوابوں کے ساتھ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہوں گے۔

لیکن اس روز فضا میں ایک عجیب بوجھ تھا۔

لوگ اپنی زندگی گزار رہے تھے، مگر دکھ ان کے چہروں پر واضح تھا۔

جلد ہی ہماری گاڑیاں اسٹاروبیلسک کالج کے احاطے میں داخل ہوئیں۔

گاڑیاں رکتے ہی صحافی اور کیمرہ مین متحرک ہو گئے۔

مختلف ممالک سے آئے ہوئے کیمرہ مینوں نے فوراً اپنے کیمرے سنبھال لیے اور عمارت، اطراف کے ماحول، سکیورٹی انتظامات اور جائے وقوعہ کے مختلف مناظر کو ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔

میرے ساتھی حسن رضا بھی گاڑی سے اترتے ہی اپنے کیمرے کے ساتھ مصروف ہو گئے۔ وہ ہر اس منظر کو محفوظ کرنا چاہتے تھے جو اس سانحے کی حقیقت کو بیان کر سکتا تھا۔

چند لمحوں بعد ہم اس عمارت کے اندر داخل ہونے والے تھے جہاں اس سانحے کے سب سے نمایاں آثار موجود تھے۔

ہم دونوں جانتے تھے کہ اگلے چند گھنٹوں میں جو کچھ ہم دیکھنے جا رہے ہیں، وہ محض ایک خبر نہیں ہوگا۔

وہ ایک ایسی حقیقت ہوگی جسے صرف الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ **حصہ اول** ہے۔ اگلے حصے میں کالج کی عمارت، کانچ کے ٹکڑے، ہاسٹل، کھلونے، کتابیں اور پورے سفرنامے کا سب سے کربناک حصہ شامل ہوگا۔

(جاری ہے)-