ماسکو (صدائے روس)’’ڈائیلاگ اباؤٹ فیکٹ ‘‘ کی چوتھی کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ نے خبروں کی جانچ اور بین الاقوامی مکالمے پر زور دیا، جبکہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ماہرین نے سیاسی غلط معلومات، میڈیا پر اعتماد اور مصنوعی ذہانت کے اثرات پر اپنے تجربات پیش کیے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں غیر مصدقہ خبر بھی چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق جھوٹی معلومات معاشروں میں اختلاف اور نفرت پیدا کرتی ہیں اور ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کرتی ہیں۔
لاوروف نے یہ بات ماسکو میں منعقدہ چوتھے بین الاقوامی فورم ’’ڈائیلاگ اباؤٹ فیکس 4.0‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فورم کا آغاز روسی صدر ولادیمیر پوتن کے پیغام سے ہوا، جسے خبر رساں ادارے تاس کے ڈائریکٹر جنرل آندرے کوندرشوف نے پڑھ کر سنایا۔ پیغام میں ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کی کوششیں مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ منتظمین کے مطابق فورم میں پاکستان سمیت 80 ممالک سے دو ہزار سے زائد افراد اور ماہرین نے شرکت کی۔
روسی وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں الزام عائد کیا کہ بعض مغربی ذرائع ابلاغ متنازع واقعات سے متعلق الزامات کو فوری طور پر نمایاں کرتے ہیں، جبکہ متبادل معلومات کو کم جگہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں سرگئی اسکریپال اور الیکسی ناوالنی کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس کو اپنی درخواستوں کے تسلی بخش جواب نہیں ملے۔
لاوروف نے 2022 میں یوکرین کے شہر بوچا کے واقعات پر بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے وہاں شہری ہلاکتوں سے متعلق روسی مؤقف دہرایا اور کہا کہ روس نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور واقعات کی تفصیلات جاننے کے لیے اقوام متحدہ سے سوالات کیے تھے۔ انہوں نے بوچا کی یادگار پر درج ناموں کے بارے میں ایک روسی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج بھی پیش کیے۔ یہ بوچا سے متعلق روسی وزیر خارجہ اور مذکورہ رپورٹ کے دعوے ہیں، جن کی اس خبر کے لیے آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
فورم سے منسلک گلوبل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک، GFCN، کے گول میز مباحثے میں بھی مختلف ممالک کے نمائندوں نے غلط معلومات کے پھیلاؤ پر گفتگو کی۔ یہ نشست ’’مختلف ممالک میں غلط معلومات کے انسداد کی عملی صورتیں: نوآبادیاتی ورثہ، ٹیکنالوجی اور سیاست‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔
جنوبی افریقہ کی صحافی اور GFCN کی ماہر مانتولا نونکولولیکو نے کہا کہ افریقہ کے بارے میں عالمی میڈیا کی رپورٹنگ کو سمجھنے کے لیے ذرائع ابلاغ کی ترجیحات اور مالی معاونت کے ذرائع پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک اگر گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو زیادہ توجہ دیں تو ان معاشروں کی زیادہ جامع تصویر سامنے آ سکتی ہے۔
نائجیریا کی صحافی ایمیزنگ گریس ڈوپ اجائی نے کہا کہ بعض غلط بیانیے اتنی بار دہرائے جاتے ہیں کہ لوگ انہیں حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معلومات کی تیز رفتار گردش کے باعث فیکٹ چیکرز کے لیے ہر دعوے کی بروقت جانچ ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافت اور ابلاغ کے محقق اور سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ کلائمیٹ اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اور غلط معلومات کو سیاسی مخالفین کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ رومانیہ کی بلاگر یوانا بیرگان نے اپنے ملک میں سیاسی حالات کو فیک خبروں کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب قرار دیا۔
فرانس کے تجزیہ کار ایمانوئل لیروئے نے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں ممکنہ نظریاتی رجحانات پر بات کی۔ روس کی میرا تیرادا، جو برکس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن ہیں، نے دعویٰ کیا کہ مغربی ممالک میں متبادل مؤقف دبائے جا رہے ہیں۔ امریکی سیاسی کارکن کیلب موپن نے کہا کہ بعض حلقوں کا روایتی ذرائع ابلاغ پر اعتماد کم ہوا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں۔
فورم کی دونوں نشستوں میں مقررین نے معلومات کی جانچ، ذرائع کی شفافیت اور مختلف ممالک کے صحافیوں کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔