Connect with us

شوبز

سویڈن میں پہلی بار پاکستانی فلم بڑے سنیما گھروں کی زینت بنی

Published

on

سویڈن میں پہلی بار پاکستانی فلم بڑے سنیما گھروں کی زینت بنی

پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ کی جانب سے پاکستانی فلم انڈسٹری کو سویڈن میں پروموٹ کرنے کے لئے فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ کی ٹکٹیں مفت تقسیم کی گئیں، پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ دیگر ایشیائی ،عرب اور سویڈش کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ ادارے کے سربراہ زبیرحسین کا کہنا ہے کہ سویڈن کا شہر مالمو ملٹی کلچرل سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے اس لئے ہم نے ہمارے ممبران کے علاوہ چند مقامی حلقوں میں مفت ٹکٹوں کی تقسیم کی تاکہ پاکستانی فلموں کو پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ دنیا کی دیگر قومیتوں میں بھی پذیرائی مل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سویڈن کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ کوئی پاکستانی فلم سویڈن کے بڑے سنیما گھروں کی زینت بن رہی ہےاور اس کاوش میں پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔شرکاء نے اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وباءکے مشکل دور کے بعد یہ پاکستانی کمیونٹی کا ایک سب سے بڑا ایونٹ ہے ، سویڈن میں ایسی تفریحی سرگرمیوں کا آغاز ہونے سے ناصرف کمیونٹی کو ایک ساتھ مل بیٹھنے کا موقع میسر آیا ہے بلکہ دیارِغیر میں ہماری آنی والی نسلوں تک قومی ثقافتی ورثے کو کو پروموٹ کرنے کا بھی یہ ایک موزوں ذریعہ ہے۔فلم سے قبل پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ کا پرومو بھی نشر کیا گیا جس میں ادارے کی جانب سے سویڈن میں پاکستان کا مثبت چہرہ متعارف کروانے کی کاوشیں دکھائی گئیں۔

واضح رہے کہ ادارے کے سربراہ زبیر حسین سویڈن میں رواں برس ہونے والے عام انتخابات میں پارلیمانی، صوبائی اور شہری نشتوں کے امیدوار ہیں پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ کی جانب سے کمیونٹی سے درخواست کی گئی کہ زبیر حسین اور ان کی سیاسی جماعت کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں تاکہ کمیونٹی مسائل اور اسلاموفوبیا کے واقعات کی روک تھام کے لئے سویڈن کے ایوانوں میں آواز اٹھائی جاسکے۔

تازہ ترین

سعودی عرب فلم سازی کی صنعت کامیابی کی جانب گامزن

Published

on

سعودی عرب فلم سازی کی صنعت کامیابی کی جانب گامزن

سعودی عرب فلم سازی کی صنعت کامیابی کی جانب گامزن

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک)
فلم سازی کی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس میدان میں درست سمت میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور اس شعبے میں مسلسل ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ’واس‘ کے مطابق مملکت میں مقامی سطح پر فلموں کی تیاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ س بات کا اظہار ’مملکت میں فلم سازی کا مستقل‘ کے عنوان سے ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا گیا جس میں فلم ساز اور ڈیزائنر مالک نجر، ڈائریکٹر فیصل بالطیور اور سعودی سنیما ایسوسی ایشن کی صدر ھناء العمیر نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کی نظامت امام دکتور سعید الزہرانی یونیورسٹی کے کالج آف میڈیا اینڈ کمیونیکشن کے اسسٹنٹ پروفیسر نے کی۔ سعودی سنیما کا مستقبل روشن ہے
سعودی فلم ڈائریکٹر فیصل بالطیور نے سعودی سنیما میں ہونے والے پیش رفتوں سے متعلق گفتگو کی۔ انہوں نے سعودی سنیما کی جدت اور اس کی مقامی اور بین الاقوامی فیسٹولز میں شرکت کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے سعودی فنکاروں کے اچھے مستقبل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس حوالے سے مستقل مزاجی سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ فیصل بالطیور نے اپنی گفتگو میں سعودی سنیما کے فلم سازی کے میدان میں قائدانہ کردار کا ذکر کیا اور بتایا کہ مملکت کے پاس کس قسم کی ثقافتی و فنی صلاحیتیں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی وہ خصوصیات ہیں جو سعودی عرب کو فلم سازی کی دنیا بالخصوص مقامی سطح پر فلم سازی کا مرکز بنائیں گی۔
فلم ڈائریکٹر مالک نجر نے اینیمیشن انڈسٹری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی فلم سازوں کی مختلف فیسٹولز میں شرکت اس کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اینیمیٹڈ فلموں کی تیاری میں نئے تجربات کیے جا رہے ہیں بالخصوص ہارر، ایکشن فلموں اور فیملی ڈراما کی تیاری میں ہمارا کام اہمیت کا حامل ہے۔‘
’مقدار ہی کوالٹی بناتی ہے‘
سعودی سنیما ایسوسی ایشن کی صدر ھناء العمیر نے سعودی انڈسٹری کی جانب سے تیار ہونے والی فلموں کی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’مقدار ہی کوالٹی کو ممکن بناتی ہے۔‘
انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی وجہ سے سنیما کی شکل کافی حد تک بدل چکی ہے۔ اس شعبے میں ہونے والے نئے تجربات ماضی کے خلا کو پُر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنی حکمت عملی مرتب کر کے وہ چیز تیار کر سکتے ہیں جو ہماری نمائندگی کرے اور ہمیں ڈزنی کی پروڈکشن کی پیروی نہ کرنی پڑے۔ یہ ممکن ہے کہ سنیما کی دنیا میں نئی مثال قائم کریں۔‘

Continue Reading

ٹرینڈنگ