قسط اول:
ماسکو سے دوشنبہ — ایک صحافتی سفر، ایک دیرینہ خواہش اور اکیس سال پرانی یادیں
اشتیاق ہمدانی
04 اکتوبر صبح کا وقت ہے۔ ماسکو کے ونوکووو ہوائی اڈے کے ویٹنگ ہال میں بیٹھے ہیں۔ بورڈنگ کی کارروائی مکمل ہوچکی ہے، ہینڈ بیگج ساتھ ہے اور اب بس پرواز کا انتظار ہے۔
عزیزم حسن رضا میرے ہمراہ ہیں۔ ہم تقریباً پچاس افراد کے اس وفد میں شامل ہیں جو آج روس کے دارالحکومت ماسکو سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ روانہ ہورہا ہے۔ وفد میں صحافی، کھیلوں کی دنیا سے وابستہ شخصیات، منتظمین اور دیگر مہمان شامل ہیں۔ کچھ چہرے پہلے سے مانوس ہیں، لیکن اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن سے پہلی مرتبہ ملاقات ہورہی ہے۔
ایئرپورٹ پر معمول کی چہل پہل جاری ہے۔ مسافر اپنی پروازوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ کوئی موبائل فون پر گفتگو کررہا ہے، کوئی اپنے سفری کاغذات دیکھ رہا ہے اور کوئی اپنے ساتھیوں کے ساتھ آنے والے سفر کے بارے میں باتیں کررہا ہے۔
چند ہی دیر میں ہمارا جہاز پرواز کرے گا اور ہم وسط ایشیا کی اس سرزمین کی طرف روانہ ہوں گے جس کے ساتھ میرے ماضی، خاندانی روایات اور جذبات کی ایک طویل داستان وابستہ ہے۔
سچ کہوں تو آج میں خاصا پُرجوش ہوں۔
ایک وجہ تو یہ ہے کہ ایشین گرینڈ پری 2026، یعنی بین الاقوامی بیک گیمون ٹورنامنٹ کی صحافتی کوریج کے لیے یہ میرا پہلا بین الاقوامی پریس ٹور ہے جس میں مجھے باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ آخرکار میں ایک ایسی سرزمین کی طرف دوبارہ جارہا ہوں جہاں جانے کی خواہش برسوں سے میرے دل میں موجود تھی۔
تاجکستان میرے لیے صرف ایک ملک نہیں۔
میں پہلی مرتبہ جون 2005ء میں تاجکستان گیا تھا۔ اس کے بعد کئی بار وہاں جانے کا ارادہ بنا، منصوبے ترتیب دیے، تیاری بھی ہوئی، مگر ہر مرتبہ کسی نہ کسی وجہ سے سفر ممکن نہ ہوسکا۔
اب اکیس سال بعد ایک مرتبہ پھر اس سرزمین پر قدم رکھنے کا موقع مل رہا تھا۔
شاید اس خواہش کی اصل وجہ یہ ہے کہ تاجکستان سے میرا تعلق محض ایک مسافر کا نہیں۔ اس سرزمین سے میرے خاندان کی تاریخی اور روحانی نسبت کی روایت وابستہ ہے۔
روس میں میری صحافتی زندگی کے بھی باضابطہ دس سال مکمل ہوچکے ہیں۔
یہ نہیں کہوں گا کہ پتا ہی نہیں چلا۔
پتا خوب چلا ہے!
ان دس برسوں میں بڑے جوتے گھسائے ہیں۔
روس کے 89 وفاقی علاقوں میں سے نصف سے زیادہ علاقوں میں جانے، مختلف پریس ٹورز میں شرکت کرنے، بین الاقوامی کانفرنسوں، سیاسی و سفارتی فورمز، ثقافتی تقریبات اور عوامی اجتماعات کی کوریج کا موقع ملا۔
روس ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ اس کے مختلف خطوں میں نہ صرف موسم، جغرافیہ اور قدرتی مناظر بدل جاتے ہیں بلکہ زبان، ثقافت، لباس، روایات اور طرزِ زندگی میں بھی نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔
کہیں برف پوش پہاڑ ہیں، کہیں گھنے جنگلات، کہیں دور تک پھیلے میدان، کہیں تاریخی شہر اور کہیں ایسی بستیاں جہاں زندگی کی رفتار بڑے شہروں سے بالکل مختلف ہے۔
ان سفروں کے دوران روس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور انہیں اپنے قارئین و ناظرین تک پہنچانے کی کوشش کی۔
بعض اوقات ایک صحافی کے طور پر ایسے علاقوں تک پہنچنے کا موقع ملا جہاں عام حالات میں جانا شاید ممکن نہ ہوتا۔ کہیں کسی بین الاقوامی کانفرنس کی کوریج تھی، کہیں ثقافتی میلے کی، کہیں کسی تاریخی مقام کا دورہ اور کہیں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے حالاتِ زندگی کو سمجھنے کی کوشش۔
ہر سفر نے کچھ نہ کچھ سکھایا۔
کبھی روس کی تاریخ کے نئے پہلو سامنے آئے، کبھی اس کے معاشرتی نظام کو سمجھنے کا موقع ملا، کبھی مختلف قوموں کی تہذیبی شناخت کا مشاہدہ کیا اور کبھی ایسے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن کی محبت اور مہمان نوازی ہمیشہ کے لیے یادگار بن گئی۔
لیکن آج کا سفر ان سب سے کچھ مختلف تھا۔
ماسکو سے دوشنبہ، دوشنبہ سے بوختار اور پھر کولاب۔
کولاب میں ایک ایسی شخصیت کی آخری آرام گاہ ہے جس کا نام کشمیر کی تاریخ، تہذیب اور روحانی روایت کے ساتھ گہری نسبت رکھتا ہے۔
امیرِ کبیر حضرت میر سید علی ہمدانیؒ۔
وہی حضرت شاہِ ہمدانؒ، جنہوں نے ایران کے تاریخی شہر ہمدان سے سفر کیا، مختلف علمی اور روحانی مراکز سے ہوتے ہوئے کشمیر پہنچے اور وہاں علم، تصوف، اخلاقیات اور تہذیبی روابط کی ایک ایسی روایت سے وابستہ ہوئے جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
حضرت میر سید علی ہمدانیؒ 1314ء میں ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئے۔ وہ چودھویں صدی کے معروف صوفی عالم، مصنف، مفکر اور مبلغ تھے۔ ان کا تعلق تصوف کے کبرویہ سلسلے سے تھا۔
ان کی زندگی کا بڑا حصہ علم کے حصول، روحانی تربیت، تصنیف و تالیف اور مختلف ممالک کے سفر میں گزرا۔
ان کے علمی ورثے میں متعدد فارسی اور عربی تصانیف شامل ہیں، جن میں ذخیرۃ الملوک، اورادِ فتحیہ، چہل اسرار، مشارب الاذواق اور دیگر رسائل نمایاں ہیں۔
لیکن میرے لیے حضرت شاہِ ہمدانؒ کا کولاب میں مدفون ہونا محض ایک تاریخی حقیقت نہیں۔
یہ ایک ذاتی نسبت بھی ہے۔
ہمارے خاندان میں حضرت شاہِ ہمدانؒ سے تعلق کی روایت نسل در نسل چلی آرہی ہے۔ بچپن سے بزرگوں کی زبان سے ان کی زندگی، کشمیر آمد، علمی خدمات اور روحانی مقام کے تذکرے سنتے آئے ہیں۔
اس خاندانی روایت کی تاریخی اور دستاویزی تحقیق اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس نام سے جڑا قلبی تعلق میرے لیے ہمیشہ خصوصی اہمیت رکھتا رہا ہے۔
کشمیر میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کو نہایت احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا نام صرف مذہبی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ کشمیر کی علمی، تہذیبی اور معاشرتی روایت میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔
سرینگر کی خانقاہِ معلیٰ ہو، فارسی زبان و ادب کی روایت ہو، کشمیری دستکاریوں کی تاریخ ہو یا مختلف علاقوں میں ان سے منسوب یادگاریں، ہر جگہ ان کی شخصیت کے اثرات کا ذکر ملتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ میرے لیے دوشنبہ سے کولاب کا سفر محض چند سو کلومیٹر کی مسافت نہیں تھا۔
شاید یہ ہمدان سے کشمیر اور کشمیر سے کولاب تک پھیلی ہوئی ایک طویل تاریخ کو اپنے قدموں سے محسوس کرنے کا سفر تھا۔
ماسکو کے ویٹنگ ہال میں بیٹھے ہوئے میرے ذہن میں ایک طرف آنے والے دنوں کی صحافتی مصروفیات تھیں اور دوسری طرف کولاب پہنچنے کی خواہش۔
اس خواہش کے پیچھے میرے بچپن کی بہت سی یادیں بھی تھیں۔
مجھے آج بھی وہ زمانہ یاد ہے جب ہمارے خاندان کی نشستوں میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کا ذکر ہوتا تھا۔ بزرگ ان کے سفر، کشمیر سے تعلق اور کولاب میں موجود مزار کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔
ان محفلوں میں بعض باتیں سمجھ آتی تھیں اور بعض کم عمری کی وجہ سے پوری طرح ذہن نشین نہیں ہوتی تھیں، لیکن حضرت شاہِ ہمدانؒ کا نام اور کولاب کا ذکر ہمیشہ یاد رہا۔
کئی دہائیاں گزر گئیں۔
زندگی نے مختلف راستوں پر سفر کروایا، پاکستان سے روس پہنچا دیا، صحافت کی دنیا میں مصروفیات بڑھتی رہیں، لیکن کولاب جانے کی خواہش کسی نہ کسی شکل میں دل میں موجود رہی۔
اور آج اس خواہش کی تکمیل کا امکان پہلے سے کہیں زیادہ روشن تھا۔
اس سفر میں میرے ساتھ حسن رضا بھی تھے، جو فوٹوگرافی اور دیگر صحافتی ذمہ داریوں میں معاونت کررہے تھے۔
لیکن روانگی سے پہلے ایک دلچسپ، بلکہ کسی حد تک پریشان کن صورتِ حال پیدا ہوگئی۔
حسن رضا پاکستانی پاسپورٹ کے حامل تھے اور انہیں تاجکستان میں داخلے کے لیے ویزا درکار تھا۔
سفر کی تیاری تقریباً مکمل تھی، ہوائی ٹکٹ موجود تھے، سامان تیار تھا، لیکن روانگی سے محض ایک دن قبل معلوم ہوا کہ حسن کے ویزے کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا۔
یہ خبر یقیناً پریشان کن تھی۔
ایک طرف بین الاقوامی ایونٹ کی دعوت، دوسری طرف روانگی کا وقت قریب، اور تیسری طرف ویزے کی غیر یقینی صورتِ حال۔
ایسے مواقع پر سب سے بڑی پریشانی یہی ہوتی ہے کہ اگر ایک شخص کا سفری مسئلہ حل نہ ہو تو پورے پروگرام کی ترتیب متاثر ہوسکتی ہے۔
خوش قسمتی سے ٹورنامنٹ کے منتظمین نے اس معاملے میں فوری دلچسپی لی۔
متعلقہ سطح پر رابطے کیے گئے، ضروری انتظامات مکمل کروائے گئے اور بالآخر حسن رضا کے سفر کا راستہ بھی صاف ہوگیا۔
یوں آخری وقت کی ایک بڑی پریشانی دور ہوگئی۔
یہ پہلا موقع تھا جب ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمارے میزبان صرف رسمی انتظامات تک محدود نہیں بلکہ اپنے مہمانوں کی مشکلات حل کرنے میں بھی پوری دلچسپی رکھتے ہیں۔
بعد کے دنوں میں تاجکستان میں ہمیں اس مہمان نوازی اور تعاون کی مزید کئی مثالیں دیکھنے کو ملیں۔
بالآخر روانگی کا وقت آگیا۔
جہاز میں بیٹھتے ہوئے میرے ذہن میں اکیس سال پہلے کا تاجکستان بار بار ابھر رہا تھا۔
2005ء میں جب پہلی مرتبہ دوشنبہ آیا تھا تو یہ شہر آج کے مقابلے میں بہت مختلف تھا۔
اس زمانے کا دوشنبہ مجھے ایک نسبتاً چھوٹا، خاموش اور کسی حد تک گاؤں نما شہر محسوس ہوا تھا۔
عمارتیں زیادہ بلند نہیں تھیں۔ شہری تعمیرات محدود تھیں۔ سڑکوں اور بازاروں میں آج جیسی جدید ترقی کے آثار نمایاں نہیں تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب تاجکستان اپنی آزادی کے بعد کے مشکل برسوں سے نکل کر سیاسی استحکام اور تعمیر و ترقی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 9 ستمبر 1991ء کو تاجکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر سامنے آیا، لیکن آزادی کے ابتدائی برس اس ملک کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوئے۔
1992ء سے 1997ء تک تاجکستان خانہ جنگی کا شکار رہا۔
اس دوران ہزاروں افراد جان سے گئے، بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت و سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
27 جون 1997ء کو ماسکو میں امن معاہدے پر دستخط ہوئے، جس نے ملک میں سیاسی مفاہمت اور امن کی بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
صدر امام علی رحمان کی قیادت کو تاجکستان کے سرکاری بیانیے اور عوامی گفتگو میں امن، استحکام اور قومی اتحاد سے منسلک کیا جاتا ہے، جبکہ ملک کے سیاسی نظام اور شہری آزادیوں کے بارے میں مختلف بین الاقوامی حلقوں کی الگ آراء بھی موجود رہی ہیں۔
ایک صحافی کے طور پر میرے لیے دلچسپ بات یہ تھی کہ اکیس سال بعد میں اس ملک کو اپنی آنکھوں سے دوبارہ دیکھنے جارہا تھا۔
میں جاننا چاہتا تھا کہ اس عرصے میں دوشنبہ کتنا بدلا ہے، عوام کی زندگی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں اور ملک کی ثقافتی شناخت پر جدید ترقی کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اسی سوچ کے دوران جہاز تاجکستان کی جانب اپنی منزل طے کرتا رہا۔
بالآخر ہم دوشنبہ پہنچ گئے۔
ہوائی اڈے پر اترتے ہی اکیس سال پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔
لیکن اس بار پہلا تاثر ہی مختلف تھا۔
شہر کی طرف جاتے ہوئے جدید سڑکیں، کشادہ شاہراہیں، بلند و بالا عمارتیں، نئے تعمیراتی منصوبے، خوبصورت پارک اور سرسبز مقامات دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں دوشنبہ نے اپنی صورت کافی حد تک بدل لی ہے۔
ایک لمحے کے لیے تو مجھے دبئی کا خیال آگیا۔
یقیناً دوشنبہ دبئی نہیں تھا۔ اس کی اپنی تہذیب، اپنی شناخت اور اپنی تاریخی خوبصورتی تھی، لیکن 2005ء کے دوشنبہ کے مقابلے میں جدید عمارتوں اور شہری تعمیرات نے مجھے واقعی حیران کیا۔
میں گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کبھی نئی عمارتوں کا مشاہدہ کرتا اور کبھی ذہن میں اکیس سال پرانے مناظر سے ان کا موازنہ کرنے لگتا۔
وہ سڑکیں جن پر کبھی نسبتاً کم ٹریفک اور چھوٹی عمارتیں نظر آتی تھیں، اب کئی مقامات پر جدید تعمیرات اور شہری سرگرمیوں سے بھرپور دکھائی دے رہی تھیں۔
تاجکستان کی ترقی کا یہ پہلو میرے لیے خاص طور پر دلچسپ تھا۔
لیکن ایک اور بات بھی فوراً محسوس ہوئی۔
جدید تعمیرات اور شہری ترقی کے باوجود دوشنبہ نے اپنی تہذیبی پہچان برقرار رکھی تھی۔
تاجک زبان کی مٹھاس، فارسی ثقافت کی جھلک، لوگوں کا اندازِ گفتگو اور مقامی روایات جگہ جگہ محسوس ہوتی تھیں۔
اردو بولنے والے شخص کے لیے تاجک زبان کے کئی الفاظ مانوس محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ اردو اور تاجک فارسی کے درمیان ایک وسیع مشترکہ لسانی ورثہ موجود ہے۔
اس وجہ سے مقامی لوگوں کی گفتگو میں بعض الفاظ فوراً سمجھ آجاتے تھے اور بعض کا مفہوم سیاق و سباق سے واضح ہوجاتا تھا۔
ہوائی اڈے پر ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ہم اپنے میزبانوں کے ساتھ ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔
وہاں پہنچ کر سامان رکھا، کچھ دیر آرام کیا اور سفر کی تھکن اتاری۔
لیکن ہمارا پروگرام مصروف تھا۔
بین الاقوامی بیک گیمون ٹورنامنٹ کے انتظامات اور مقابلوں کے مقام کا جائزہ لینے کے لیے منتظمین نے اسی روز پروگرام ترتیب دیا تھا۔
کچھ دیر بعد ہم دوشنبہ کے معروف کوہی نوروز کمپلیکس کی طرف روانہ ہوئے۔
کوہی نوروز تاجکستان کے جدید اور روایتی فنِ تعمیر کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔
اس کی عمارت کو دیکھ کر پہلی ہی نظر میں اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں مقامی کاریگروں کی مہارت اور تاجکستان کی تہذیبی روایت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
وسیع ہال، خوبصورت محرابیں، لکڑی پر نفیس نقاشی، چھتوں کی تزئین، آئینے کا کام، باریک نقش و نگار اور روایتی رنگوں کا استعمال اس عمارت کو ایک منفرد شناخت دیتے ہیں۔
اس کے اندرونی حصوں میں تاجک فنکاروں اور کاریگروں کے کام کی ایسی مثالیں دکھائی دیتی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وسط ایشیا کی قدیم دستکاریوں کی روایت آج بھی زندہ ہے۔
یہاں ایک دلچسپ تاریخی حوالہ بھی سامنے آیا۔
میزبانوں نے بتایا کہ اسی کوہی نوروز کمپلیکس میں ستمبر 2021ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔
اس اجلاس میں پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی تھی۔
ہمیں وہ ہال دکھایا گیا جہاں مختلف ممالک کے سربراہان نے علاقائی تعاون اور بین الاقوامی معاملات پر گفتگو کی تھی۔
مقامی میزبانوں نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی شرکت کا خصوصی ذکر کیا۔
ایک پاکستانی صحافی کے طور پر میرے لیے یہ ایک دلچسپ لمحہ تھا۔
جس ہال میں چند سال پہلے عالمی اور علاقائی سیاست کے اہم رہنما جمع ہوئے تھے، آج اسی مقام پر مختلف ممالک کے کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کے لیے انتظامات کیے جارہے تھے۔
یوں ایک ہی عمارت کے اندر سیاست، سفارت کاری، ثقافت اور کھیلوں کی دنیا کے کئی پہلو ایک ساتھ سامنے آرہے تھے۔
منتظمین نے ہمیں ٹورنامنٹ کے لیے مخصوص مختلف حصے دکھائے۔
کہاں کھلاڑی مقابلوں میں حصہ لیں گے، کہاں بین الاقوامی مہمان بیٹھیں گے، میڈیا کے نمائندوں کے لیے کیا انتظامات ہیں اور مقابلوں کی روزمرہ سرگرمیاں کس طرح چلیں گی، ان تمام امور کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
ایشین گرینڈ پری 2026 بین الاقوامی بیک گیمون مقابلوں کی ایک اہم سیریز کا حصہ تھا۔
اس ٹورنامنٹ میں تیس سے زیادہ ممالک کے تین سو سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت متوقع تھی، جبکہ مجموعی انعامی رقم پانچ لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی تھی۔
روس، تاجکستان، آذربائیجان، ترکمانستان، ایران، کرغزستان، یوکرین اور دیگر ممالک کے کھلاڑی اس بین الاقوامی مقابلے کا حصہ تھے۔
یہ کھیل مختلف ممالک میں اپنے اپنے روایتی انداز کے ساتھ مقبول ہے۔
بعض علاقوں میں اسے بیک گیمون، بعض میں نارڈے اور بعض میں دوسرے مقامی ناموں سے جانا جاتا ہے۔
اس کے مختلف انداز اور قواعد موجود ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ حکمتِ عملی، حساب، تجربے اور بعض حد تک قسمت کا کھیل ہے۔
کھیلوں کے اس اجتماع کا ایک خوبصورت پہلو یہ تھا کہ مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی جگہ جمع تھے۔
مقابلے کی میز پر ہر کھلاڑی کامیابی چاہتا تھا، لیکن میز سے اٹھنے کے بعد گفتگو، تعارف اور دوستی کا ایک الگ سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔
ایک صحافی کی حیثیت سے یہ ماحول میرے لیے خاص دلچسپی رکھتا تھا۔
بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے صرف جیت اور ہار کی کہانی نہیں ہوتے۔ ان میں مختلف معاشروں، ثقافتوں اور قومیتوں کے درمیان رابطے بھی قائم ہوتے ہیں۔
یہاں ایسے ممالک کے کھلاڑی بھی ایک دوسرے کے سامنے موجود تھے جن کے درمیان سیاسی سطح پر اختلافات یا کشیدگی پائی جاتی ہے۔
لیکن کھیل کی میز پر ان کی شناخت کھلاڑی کی تھی۔
اس ماحول کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر محسوس ہوا کہ کھیلوں کی دنیا میں ایسے مواقع موجود ہوتے ہیں جہاں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانی روابط قائم کیے جاسکتے ہیں۔
اس روز کوہی نوروز کے دورے اور منتظمین کی بریفنگ کے بعد ہم واپس ہوٹل پہنچے۔
دن بھر کی مصروفیات اور سفر کی تھکن کے باوجود میرے ذہن میں دوشنبہ کی بدلی ہوئی صورت، کوہی نوروز کی خوبصورت عمارت اور آنے والے بین الاقوامی مقابلوں کی سرگرمیاں گردش کررہی تھیں۔
لیکن ان سب کے درمیان ایک اور خیال مسلسل موجود تھا۔
کولاب!
وہ منزل جس کے بارے میں بچپن سے سنتا آیا تھا۔
وہ مقام جہاں حضرت شاہِ ہمدانؒ کا مزار ہے۔
وہ شہر جس کا نام ہمارے خاندان کی پرانی گفتگوؤں میں بار بار آتا تھا۔
دوشنبہ پہنچنا میرے لیے ایک خوشی تھی، لیکن اس خوشی کے اندر کولاب پہنچنے کی خواہش ایک الگ مقام رکھتی تھی۔
میرے ذہن میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے سفر کی داستانیں گردش کر رہی تھیں۔
ہمدان سے خراسان، ختلان سے کشمیر، اور پھر تاریخ کے طویل راستوں سے گزرتے ہوئے ان کی آخری آرام گاہ کولاب میں۔
میں سوچ رہا تھا کہ صدیوں پہلے ان علاقوں کے درمیان علمی اور تہذیبی روابط کس قدر مضبوط رہے ہوں گے۔
ایران، وسط ایشیا، افغانستان اور کشمیر کے درمیان سفر کرنے والے علماء، صوفیاء، تاجر اور ہنرمند صرف اپنے جسم اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے ساتھ علم، زبان، ہنر، تجربہ اور تہذیبی روایات بھی لے کر جاتے تھے۔
کشمیر کی شال، اخروٹ کی لکڑی پر نقاشی، قالین بافی، فارسی خطاطی اور دیگر فنون کی تاریخ میں انہی قدیم روابط کی جھلک ملتی ہے۔
حضرت شاہِ ہمدانؒ کے ساتھ کشمیر آنے والے علماء اور ہنرمندوں کے بارے میں کئی تاریخی روایات موجود ہیں۔
ان روایات کے مطابق انہوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ علمی، مذہبی اور ثقافتی روابط قائم کرنے کے علاوہ بعض ہنروں اور دستکاریوں کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا۔
یہ وہ تاریخی پہلو تھا جسے میں کولاب کے سفر کے دوران مزید سمجھنا چاہتا تھا۔
میری خواہش صرف مزار پر حاضری کی نہیں تھی۔
میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے تاریخی سفر، ان کی تصانیف، علمی ورثے، مزار کے احاطے، میوزیم اور کشمیر سے وابستہ یادگاروں کو بھی دیکھنا چاہتا تھا۔
خصوصاً اس بات میں میری دلچسپی تھی کہ تاجکستان میں ان کی شخصیت کو کس انداز سے یاد کیا جاتا ہے، ان کے علمی ورثے کے بارے میں کیا معلومات محفوظ ہیں اور ان کے کشمیر سے تعلق کو مقامی لوگ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
رات گئے جب دن بھر کی مصروفیات ختم ہوئیں تو ذہن میں یہی سوالات موجود تھے۔
دوشنبہ کی روشن شاہراہیں، بلند عمارتیں اور نئے شہر کا منظر اپنی جگہ تھا، لیکن میرے دل میں ایک دوسری تصویر بھی روشن تھی۔
کولاب میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کا مزار۔
ابھی وہاں پہنچنے کا پروگرام حتمی نہیں ہوا تھا۔
منتظمین کے ساتھ ہماری صحافتی ذمہ داریاں موجود تھیں۔ ٹورنامنٹ کی کوریج کرنا تھی، مختلف کھلاڑیوں اور شخصیات سے ملاقاتیں طے تھیں اور مقابلوں کے پروگرام میں مسلسل شرکت ضروری تھی۔
لیکن میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اگر حالات نے اجازت دی تو اس مرتبہ کولاب پہنچے بغیر تاجکستان سے واپس نہیں جاؤں گا۔
اکیس سال کا انتظار پہلے ہی بہت طویل ہوچکا تھا۔
اب منزل اتنی قریب آکر ایک مرتبہ پھر دور رہ جائے، یہ خیال بھی دل کو قبول نہیں تھا۔
اسی خواہش کے ساتھ ہم نے دوشنبہ میں اپنے قیام کے پہلے دن کا اختتام کیا۔
یہ ایک بین الاقوامی صحافتی سفر کا آغاز تھا، مگر میرے لیے اس کے اندر ایک دوسری داستان بھی آہستہ آہستہ شکل اختیار کررہی تھی۔
ایک ایسی داستان جس میں صحافت بھی تھی، تاریخ بھی، خاندانی یادیں بھی اور اپنے اسلاف سے منسوب ایک تاریخی مقام تک پہنچنے کی دیرینہ آرزو بھی۔
اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں یہ سفر کتنے نئے لوگوں سے ملوائے گا، کتنی پرانی یادوں کو زندہ کرے گا اور کولاب کے میوزیم میں موجود ایک تصویر کس طرح مجھے کئی دہائیاں پیچھے اپنے مرحوم والد صاحب کی موجودگی میں ہونے والی ایک خاندانی نشست تک لے جائے گی۔
فی الحال تو دوشنبہ کی رونقیں ہمارے سامنے تھیں، بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی سرگرمیاں شروع ہونے والی تھیں اور دل کے کسی گوشے میں کولاب جانے کی خواہش مسلسل دستک دے رہی تھی۔
ماسکو سے دوشنبہ تک کا سفر مکمل ہوچکا تھا۔
لیکن میرے لیے اصل سفر ابھی باقی تھا۔
اگلی قسط پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
جاری ہے — قسط دوم: دوشنبہ کی رونقیں، ایشین گرینڈ پری اور کولاب جانے کی تیاری