قسط دوم:
دوشنبہ کی رونقیں، ایشین گرینڈ پری اور کولاب جانے کی تیاری
اشتیاق ہمدانی
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہماری آمد کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، لیکن اس شہر نے پہلے ہی دن مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔ ایک طرف اکیس سال پرانی یادیں تھیں اور دوسری طرف ایک ایسا شہر میرے سامنے تھا جس کی صورت گزشتہ دو دہائیوں میں خاصی بدل چکی تھی۔
2005ء میں جس دوشنبہ کو دیکھا تھا، اس کی تصویر اب بھی ذہن میں محفوظ تھی۔ اس وقت شہر نسبتاً چھوٹا، خاموش اور کم بلند عمارتوں والا دکھائی دیتا تھا۔ اب وہی دوشنبہ جدید شاہراہوں، بلند عمارتوں، خوبصورت پارکوں اور تعمیراتی سرگرمیوں سے بھرپور نظر آرہا تھا۔
شہر کی سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے کبھی پرانی یادیں ذہن میں ابھرتیں اور کبھی نئے مناظر اپنی طرف متوجہ کرلیتے۔ بعض مقامات پر جدید تعمیرات نے شہر کی صورت یکسر بدل دی تھی، لیکن اس کے باوجود دوشنبہ میں ایک ایسی تہذیبی اپنائیت موجود تھی جو اسے دوسرے جدید دارالحکومتوں سے ممتاز کرتی ہے۔
یہاں کے لوگوں کی گفتگو میں فارسی زبان کی مٹھاس تھی، معاشرت میں وسط ایشیا کی روایات کی جھلک تھی اور مہمانوں کے ساتھ پیش آنے میں ایک خاص خلوص محسوس ہوتا تھا۔
دوشنبہ میں ہماری بنیادی ذمہ داری ایشین گرینڈ پری 2026 کے بین الاقوامی بیک گیمون مقابلوں کی صحافتی کوریج تھی۔
یہ ٹورنامنٹ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں کو ایک جگہ جمع کررہا تھا۔ مقابلوں میں تیس سے زائد ممالک کے تین سو سے زیادہ کھلاڑی شریک تھے، جبکہ مجموعی انعامی رقم پانچ لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی تھی۔
اس بین الاقوامی سیریز کے پہلے مراحل تاشقند اور تبلیسی میں منعقد ہوچکے تھے، جبکہ دوشنبہ میں ہونے والا مقابلہ 2026ء کی سیریز کا تیسرا اہم مرحلہ تھا۔
مقابلوں کا مقام دوشنبہ کا معروف کوہی نوروز کمپلیکس تھا۔
پہلے روز اس تاریخی اور خوبصورت عمارت کے دورے نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ اب جب یہاں باقاعدہ مقابلے شروع ہوئے تو اس کا ماحول مزید بدل گیا۔
وسیع ہال میں کھیلوں کی میزیں ترتیب دی گئی تھیں۔ مختلف ملکوں کے کھلاڑی اپنی اپنی نشستوں پر موجود تھے۔ کہیں مقابلے شروع ہونے کی تیاری تھی، کہیں کھلاڑی اپنے حریف کے سامنے بیٹھ چکے تھے اور کہیں منتظمین مقابلوں کے انتظامات میں مصروف تھے۔
کسی میز پر روسی کھلاڑی موجود تھے، کسی پر آذربائیجان سے آنے والے شرکاء، کہیں ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغزستان کے کھلاڑی نظر آتے تھے تو کہیں دوسرے ممالک کے نمائندے۔
مختلف زبانیں بولنے والے یہ تمام لوگ ایک ایسے کھیل کی وجہ سے ایک جگہ موجود تھے جس کی جڑیں دنیا کی قدیم تہذیبوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
بیک گیمون، جسے روس اور وسط ایشیا کے کئی علاقوں میں نارڈے بھی کہا جاتا ہے، محض وقت گزارنے کا کھیل نہیں بلکہ حکمتِ عملی، صبر، حساب اور تجربے کا امتزاج ہے۔
اس کھیل کی مختلف شکلیں دنیا کے کئی خطوں میں صدیوں سے مقبول رہی ہیں۔ ایران، وسط ایشیا، قفقاز، ترکی، روس اور مشرقِ وسطیٰ میں اس سے ملتے جلتے کھیلوں کی اپنی روایات موجود ہیں۔
مقابلوں میں شریک کھلاڑیوں کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ ہر چال کے پیچھے ایک سوچ، ایک حساب اور ایک حکمتِ عملی کام کررہی ہے۔
بظاہر دو کھلاڑی ایک میز کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، لیکن کھیل کے دوران ان کی توجہ، چہروں کے تاثرات اور چالوں کے انتخاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ ذہنی یکسوئی کا تقاضا کرتا ہے۔
ایک صحافی کے طور پر میرے لیے اس کھیل کا ایک اور پہلو بھی دلچسپ تھا۔
یہاں وہ ممالک بھی موجود تھے جن کے درمیان سیاسی سطح پر اختلافات یا کشیدگی پائی جاتی ہے۔ لیکن کھیل کی میز پر ہر شخص اپنی صلاحیت اور تجربے کی بنیاد پر مقابلہ کررہا تھا۔
کھلاڑی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے، کھیلتے، نتیجہ قبول کرتے اور پھر اگلے مقابلے کی طرف بڑھ جاتے۔
یہ منظر اس حقیقت کی یاد دلاتا تھا کہ کھیل قوموں کے درمیان رابطے اور گفتگو کے ایسے مواقع پیدا کرسکتے ہیں جو بعض دوسرے شعبوں میں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
خاص طور پر روس اور یوکرین سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی ایک ہی بین الاقوامی مقابلے میں موجودگی میرے لیے ایک قابلِ توجہ صحافتی پہلو تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کے باوجود کھیلوں کے اس اجتماع میں مختلف قومیتوں کے کھلاڑی ایک ہی مقام پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے تھے۔
مجھے محسوس ہوا کہ اس موضوع پر الگ صحافتی رپورٹ تیار کی جاسکتی ہے کہ کھیلوں کے ذریعے لوگوں کے درمیان روابط کس طرح برقرار رہ سکتے ہیں۔
تاہم یہ بھی واضح تھا کہ کھیلوں کے کسی ایک مقابلے کو وسیع سیاسی اختلافات کے حل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی اہمیت انسانی ملاقاتوں، رابطوں اور باہمی احترام کے مواقع پیدا کرنے میں تھی۔
ٹورنامنٹ کے دوران مختلف کھلاڑیوں، منتظمین اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں۔
ان میں انٹرنیشنل بیک گیمون فیڈریشن کی آرگنائزنگ کمیٹی کی چیئرپرسن تاتیانا کومارووا سے گفتگو خاص طور پر دلچسپ رہی۔
انہوں نے بتایا کہ اس بین الاقوامی سیریز کا مقصد مختلف ممالک میں بیک گیمون کو فروغ دینا، نئے کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا اور قومی فیڈریشنوں کے درمیان تعاون بڑھانا ہے۔
ان کی گفتگو کے مطابق اس سیریز کے تصور اور فروغ میں انٹرنیشنل بیک گیمون فیڈریشن کے صدر عمر کریملیوف کا اہم کردار رہا ہے۔

قسط اول پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط اول: