’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط سوئم:

قسط سوئم:
دوشنبہ سے بوختار اور کولاب — اسلاف کی سرزمین کی جانب

تحریر: اشتیاق ہمدانی

بعض سفر زندگی کے معمولات کا حصہ ہوتے ہیں۔ انسان ایک شہر سے دوسرے شہر جاتا ہے، اپنا کام مکمل کرتا ہے اور واپس لوٹ آتا ہے۔ لیکن بعض سفر ایسے ہوتے ہیں جن کی منزل تک پہنچنے سے بہت پہلے انسان کا دل وہاں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ ایسے سفر میں راستوں کی طوالت، وقت کی پابندیاں اور دیگر مصروفیات اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں، کیونکہ اصل کشش منزل سے وابستہ احساسات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

میرے لیے دوشنبہ سے کولاب کا سفر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ایشین گرینڈ پری 2026 کی صحافتی کوریج کے دوران ہماری مصروفیات مسلسل جاری تھیں۔ مختلف ممالک کے کھلاڑیوں سے ملاقاتیں، منتظمین کے انٹرویوز، مقابلوں کی تصویری اور ویڈیو کوریج، رپورٹوں کی تیاری اور دیگر صحافتی ذمہ داریوں کے درمیان وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔

لیکن ان تمام سرگرمیوں کے باوجود میرے دل میں ایک خواہش مسلسل موجود تھی۔

کولاب جانا ہے۔

حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانیؒ، المعروف شاہِ ہمدانؒ، کے مزار پر حاضری دینی ہے۔

اس تاریخی مقام کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے جس کا نام بچپن سے سنتا آیا تھا اور جس کے ساتھ ہمارے خاندان کی تاریخی اور روحانی نسبت کی روایت وابستہ ہے۔

کشمیر میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کا نام صرف ایک مذہبی بزرگ کے طور پر نہیں لیا جاتا، بلکہ ان کی شخصیت یہاں کی تہذیبی، علمی اور معاشرتی تاریخ کا بھی اہم حصہ ہے۔

ہمارے خاندان میں ان سے نسبت کی روایت نسل در نسل چلی آرہی ہے۔ بچپن میں بزرگوں سے ان کے سفر، کشمیر آمد، علمی خدمات اور کولاب میں ان کے مزار کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ تاجکستان آنے کی دعوت ملتے ہی میرے ذہن میں ایشین گرینڈ پری کی صحافتی کوریج کے ساتھ کولاب جانے کا خیال بھی پیدا ہوگیا تھا۔

اب ہم اس خواہش کی تکمیل کے قریب تھے۔

ٹورنامنٹ کے منتظمین سے اجازت حاصل کرنے اور صوبہ ختلان کے محکمہ سیاحت کے ساتھ رابطے مکمل ہونے کے بعد سفر کا پروگرام ترتیب پا گیا۔

اس سلسلے میں میرے دوستوں مرزا حسین صاحب اور مرزا اشتیاق احمد صاحب کے تعاون کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، جنہوں نے مقامی رابطوں اور انتظامات میں مدد کی۔

ہماری خواہش تھی کہ دوشنبہ سے بوختار اور پھر کولاب تک کے سفر کو محض ایک زیارت تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ راستے میں آنے والے علاقوں، قدرتی مناظر، تاریخی مقامات اور مقامی معاشرت کو بھی دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

ایک صحافی کے طور پر یہ میرے لیے ایک اہم موقع تھا۔

میں تاجکستان کو صرف اس کے دارالحکومت کی جدید عمارتوں اور بین الاقوامی تقریبات تک محدود نہیں دیکھنا چاہتا تھا، بلکہ اس ملک کے جنوبی علاقوں اور وہاں کے لوگوں کی زندگی سے بھی واقف ہونا چاہتا تھا۔

چنانچہ روانگی سے پہلے حسن رضا کے ساتھ ضروری تیاری کی۔

کیمرہ، مائیکروفون، موبائل فون، پاور بینک اور دوسرے سفری سامان کا جائزہ لیا۔ کوشش یہی تھی کہ راستے کے زیادہ سے زیادہ مناظر محفوظ کیے جائیں۔

اس مرتبہ ہمارے سفر میں فوٹوگرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ ہم حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار، اس کے تاریخی احاطے اور کشمیر سے وابستہ یادگاروں کے بارے میں ایک دستاویزی رپورٹ تیار کرنا چاہتے تھے۔

صبح جب ہم دوشنبہ سے روانہ ہوئے تو دل میں خوشی کے ساتھ ایک عجیب سی بے چینی بھی موجود تھی۔

شہر کی جدید شاہراہیں آہستہ آہستہ پیچھے رہنے لگیں۔

دوشنبہ کی بلند عمارتوں، خوبصورت پارکوں اور مصروف سڑکوں سے نکل کر ہم تاجکستان کے اس حصے کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں قدرتی مناظر، پہاڑی سلسلے، کھیت، آبادیاں اور قدیم تہذیبی روایات ہمارا انتظار کررہی تھیں۔

گاڑی آگے بڑھتی گئی اور راستے کے مناظر بدلتے گئے۔

کہیں دور تک پھیلی وادیاں تھیں، کہیں پہاڑوں کے دامن میں آباد چھوٹے چھوٹے گاؤں، کہیں سڑک کے دونوں طرف کھیت نظر آتے اور کہیں پہاڑی سلسلے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہوئے دکھائی دیتے۔

بعض مقامات پر سڑکیں پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی تھیں اور بعض جگہ کھلے میدانوں کے بیچوں بیچ آگے بڑھتی تھیں۔

تاجکستان کی یہ خوبصورتی دوشنبہ کی جدید تعمیرات سے مختلف تھی۔

یہاں قدرت اپنے رنگوں کے ساتھ موجود تھی۔

پہاڑوں کی خاموشی، دور تک پھیلے میدان، چھوٹی بستیاں اور ان کے درمیان چلتی ہوئی سڑکیں اس سفر کو یادگار بنا رہی تھیں۔

ہم وقفے وقفے سے اپنے کیمرے نکالتے اور ان مناظر کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتے۔

کبھی حسن رضا گاڑی کی کھڑکی سے منظر ریکارڈ کرتے، کبھی میں کسی خاص مقام کی طرف متوجہ کرتا اور کبھی ہم مختصر قیام کرکے اردگرد کی خوبصورتی کو کیمرے میں محفوظ کرتے۔

سفر کے دوران ایک خیال بار بار میرے ذہن میں آرہا تھا۔

صدیوں پہلے جب حضرت شاہِ ہمدانؒ ان وسیع خطوں میں سفر کرتے تھے تو ان کے لیے یہ راستے کس قدر دشوار رہے ہوں گے۔

آج ہم جدید گاڑی میں ایک کشادہ سڑک پر سفر کررہے تھے۔ ہمارے پاس موبائل فون تھے، کیمرے تھے، راستوں کی معلومات تھیں اور رہنمائی کے لیے مقامی دوست موجود تھے۔

لیکن چودھویں صدی میں سفر کا انداز بالکل مختلف تھا۔

اس زمانے میں طویل مسافتیں پیدل، گھوڑوں یا قافلوں کے ذریعے طے ہوتی تھیں۔ پہاڑوں، دریاؤں، وادیوں اور مختلف سلطنتوں کی حدود سے گزرنا آسان نہ تھا۔

کبھی موسم راستہ روک لیتا ہوگا، کبھی دریاؤں کی طغیانی، کبھی دشوار گزار پہاڑی راستے اور کبھی سیاسی حالات۔

اس کے باوجود علماء، صوفیاء، تاجر اور ہنرمند مختلف خطوں کے درمیان سفر کرتے رہے۔

انہی سفروں کے ذریعے علم، زبان، تہذیب، تجارت اور مختلف فنون ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک پہنچتے رہے۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کی زندگی بھی ایسے ہی وسیع سفروں کی ایک نمایاں مثال تھی۔

ان کی پیدائش 1314ء میں ایران کے تاریخی شہر ہمدان میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ایران، عراق، خراسان، ماوراءالنہر، بدخشاں، ختلان، کشمیر اور دیگر علاقوں کے سفر کیے۔

ان سفروں کا مقصد صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنا نہیں تھا، بلکہ علمی و روحانی تربیت، مختلف مشائخ سے ملاقاتیں اور معاشروں کے درمیان روابط قائم کرنا بھی تھا۔

یہی سوچتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا تھا کہ ہمارے سامنے موجود راستہ ایک عام شاہراہ ضرور ہے، لیکن یہ جس تاریخی خطے سے گزر رہا ہے، اس کے ساتھ صدیوں کی تہذیبی یادیں وابستہ ہیں۔

دوشنبہ سے بوختار تک کا سفر جاری تھا۔

بوختار، جسے ماضی میں قرغان تپہ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، صوبہ ختلان کا ایک اہم انتظامی مرکز ہے۔

صوبہ ختلان جنوبی تاجکستان کا ایک تاریخی اور ثقافتی خطہ ہے۔ اس علاقے کی شناخت زراعت، تاریخی مقامات، قدیم بستیوں اور وسط ایشیا کے مختلف تہذیبی روابط سے وابستہ ہے۔

بوختار پہنچنے پر محکمہ سیاحت کے نمائندوں نے ہمارا استقبال کیا۔

یہاں ہمیں ایک مرتبہ پھر تاجک عوام کی مہمان نوازی کا خوش گوار تجربہ ہوا۔

مقامی میزبان نہایت محبت اور خلوص سے پیش آئے۔ انہوں نے ہمارے سفر کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور علاقے کے تاریخی و ثقافتی مقامات کا تعارف کروایا۔

ہماری گفتگو میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کا ذکر بھی آیا۔

جب انہیں معلوم ہوا کہ ہمارا تعلق پاکستان اور کشمیر سے ہے اور ہم خصوصی طور پر کولاب میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار پر حاضری کے لیے جارہے ہیں تو انہوں نے اس دلچسپی کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

ان کے رویے میں رسمی مہمان نوازی کے ساتھ ایک ایسی اپنائیت بھی محسوس ہوئی جو کسی مشترکہ تہذیبی اور تاریخی تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔

بوختار میں ہمیں مقامی ترقی، سیاحت اور بعض تاریخی مقامات کے بارے میں مختصر معلومات فراہم کی گئیں۔

اس دوران ایک ایسا تعلیمی ادارہ دیکھنے کا بھی موقع ملا جس کا تعلق تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی ابتدائی تعلیم سے بتایا گیا۔

میزبانوں نے بتایا کہ امام علی رحمان نے اپنی ابتدائی جماعتوں میں اسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کی تھی۔

اس اسکول کے دورے میں مجھے خاص دلچسپی محسوس ہوئی۔

عام طور پر کسی ملک کے صدر یا اہم سیاسی شخصیت کی زندگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس کی سیاسی سرگرمیوں، سرکاری عہدوں اور بڑے فیصلوں کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن اس کی زندگی کے ابتدائی دور اور تعلیم کے ماحول کو دیکھنے کا موقع کم ملتا ہے۔

اسکول میں داخل ہوئے تو ایک محفوظ کلاس روم ہماری توجہ کا مرکز بن گیا۔

وہاں لکڑی کے پرانے ڈیسک اور کرسیاں موجود تھیں۔

نیلے رنگ کے یہ ڈیسک عام تعلیمی فرنیچر کی طرح دکھائی دیتے تھے، لیکن ان کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ گئی تھی کہ انہیں تاریخی یادگار کے طور پر محفوظ رکھا گیا تھا۔

بعض ڈیسکوں پر ناموں کی تختیاں نصب تھیں۔

ایک ڈیسک پر تاجک زبان میں ’’رحمانوف امام علی‘‘ کا نام درج تھا۔

مقامی میزبانوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ڈیسک صدر امام علی رحمان کے ابتدائی تعلیمی دور سے منسوب ہے۔

یہاں مجھے ایک یادگار تجربہ ہوا۔

میں اسی ڈیسک پر بیٹھا جسے تاجکستان کے صدر کی ابتدائی تعلیم سے منسوب کیا جاتا ہے۔

حسن رضا نے اس موقع کی تصاویر محفوظ کیں۔

اس ڈیسک پر بیٹھتے ہوئے ذہن میں اپنے اسکول کے زمانے کی یادیں تازہ ہوگئیں۔

کلاس روم، ڈیسک، استاد کی نشست اور بچوں کے لیے مخصوص جگہیں دیکھ کر وہ زمانہ یاد آنے لگا جب ہم بھی ایسی ہی جماعتوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔

فرق صرف اتنا تھا کہ یہ کلاس روم اب ایک تاریخی یادگار کی حیثیت اختیار کرچکا تھا۔

ایک عام طالب علم کے لیے استعمال ہونے والا ڈیسک آج آنے والے مہمانوں اور زائرین کی دلچسپی کا مرکز بن گیا تھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ زندگی کے سفر میں بعض اوقات کتنی غیر متوقع تبدیلیاں آتی ہیں۔

ایک عام کلاس روم میں بیٹھنے والا بچہ مستقبل میں کسی ملک کی قیادت تک پہنچ جاتا ہے اور پھر اسی کلاس روم کا فرنیچر اس کی زندگی کی تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

یہ منظر مجھے اس بات کی یاد بھی دلا رہا تھا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

دنیا کی بڑی شخصیات کی زندگی کا آغاز بھی اکثر ایک معمولی کلاس روم، ایک استاد اور ابتدائی سبق سے ہوتا ہے۔

اسی دورے کے دوران ہمیں اسکول کے بعض پرانے تعلیمی آلات اور تدریسی سامان بھی دکھائے گئے۔

وہاں موجود اشیاء تعلیمی ادارے کے ماضی کی یاد دلاتی تھیں۔

ایک یادگاری رجسٹر بھی موجود تھا جس میں آنے والے مہمان اپنے تاثرات درج کرتے تھے۔

مجھے بھی اس رجسٹر میں اپنے خیالات تحریر کرنے کا موقع ملا۔

میں نے اس تاریخی تعلیمی ادارے کے دورے کو ایک خوش گوار تجربہ قرار دیتے ہوئے اپنے تاثرات لکھے۔

بعد میں مقامی میزبانوں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ یادگاری تصاویر بھی بنوائیں۔

یہ دورہ مختصر ضرور تھا، لیکن اس نے تاجکستان کی جدید تاریخ کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔

اس تعلیمی ادارے سے نکلنے کے بعد ہم نے ایک مرتبہ پھر کولاب کی جانب سفر جاری رکھنے کی تیاری کی۔

میرے لیے بوختار میں یہ قیام معلوماتی اور دلچسپ تھا، لیکن دل میں موجود اصل خواہش ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔

کولاب ابھی آگے تھا۔

ہماری منزل حضرت شاہِ ہمدانؒ کا مزار تھی۔

بوختار سے روانگی کے بعد سفر کا ماحول ایک مرتبہ پھر بدل گیا۔

گاڑی آگے بڑھ رہی تھی اور میں راستے کے قدرتی مناظر دیکھتے ہوئے اپنے ذہن میں کشمیر اور ختلان کے تاریخی تعلق کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

کشمیر کی سرسبز وادیاں، اخروٹ کے درخت، لکڑی کی نقاشی، شالوں پر باریک کڑھائی، فارسی خطاطی اور قدیم خانقاہیں یاد آرہی تھیں۔

یہ وہ ثقافتی پہلو تھے جن کے بارے میں بچپن سے مختلف روایات سنتا آیا تھا۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ اور ان کے ساتھ کشمیر آنے والے علماء اور ہنرمندوں کے بارے میں تاریخی روایات میں ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے مقامی معاشرے میں علمی و روحانی سرگرمیوں کے ساتھ مختلف فنون اور دستکاریوں کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا۔

کشمیر کی شال سازی، قالین بافی، کاغذی ماشے، لکڑی پر نقش و نگار اور دوسری دستکاریوں کی تاریخ میں ایران اور وسط ایشیا کے اثرات کی جھلک نظر آتی ہے۔

ان میں سے بعض فنون کی روایت حضرت شاہِ ہمدانؒ کی آمد سے پہلے بھی موجود تھی اور بعد کے ادوار میں بھی ان کی ترقی جاری رہی۔

لیکن کشمیر کی اجتماعی یادداشت میں حضرت شاہِ ہمدانؒ اور ان کے ساتھ آنے والے ہنرمندوں کو ان ثقافتی روابط کے اہم کرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ تاریخ میں علم اور ہنر کا سفر بھی کتنا دلچسپ ہوتا ہے۔

ایک علاقے کا کاریگر دوسرے علاقے میں پہنچتا ہے، وہاں کے لوگوں کو اپنا فن سکھاتا ہے، پھر اس علاقے کے ہنرمند اپنی مقامی روایات اور تجربات کے ساتھ اس فن کو آگے بڑھاتے ہیں۔

یوں وقت کے ساتھ ایک مشترکہ فن نئی شناخت اختیار کرلیتا ہے۔

کشمیر میں اخروٹ کی لکڑی پر بنائے جانے والے خوبصورت نقش و نگار اس کی ایک مثال ہیں۔

اسی طرح فارسی اور وسط ایشیائی تعمیرات میں لکڑی، محرابوں، پھولوں اور جیومیٹریائی نقوش کے استعمال میں بھی کئی ثقافتی مماثلتیں نظر آتی ہیں۔

میں کولاب پہنچ کر یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہاں کے تاریخی مقامات اور تعمیرات میں ان فنون کی کیا جھلک موجود ہے۔

یہ خواہش بھی تھی کہ حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار اور میوزیم میں ان کے کشمیر کے سفر سے متعلق کچھ نئی معلومات ملیں۔

بوختار سے کولاب کے سفر کے دوران ہمارے ڈرائیور جمشید نے بھی ہماری بہت مدد کی۔

جمشید خوش اخلاق اور ذمہ دار شخص تھے۔

وہ راستے سے واقف تھے اور جہاں ممکن ہوتا، ہمیں مختلف مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے۔

ان کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مقامی علاقوں کے بارے میں بھی جاننے کا موقع ملا۔

ہم نے راستے میں مختلف قدرتی مناظر اپنے کیمروں میں محفوظ کیے۔

کہیں پہاڑوں کے دامن میں آباد بستیاں نظر آتیں، کہیں کھیت، کہیں دور تک پھیلی وادیاں اور کہیں پہاڑی سڑکوں کے خوبصورت موڑ۔

بعض مقامات پر سورج کی روشنی پہاڑوں اور زمین پر مختلف رنگ بکھیر رہی تھی۔

میں ان مناظر کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ قدرتی خوبصورتی کو مکمل طور پر کسی تصویر میں محفوظ کرنا ممکن نہیں۔

کیمرہ منظر کا ایک حصہ دکھا سکتا ہے، مگر اس وقت کی ہوا، خاموشی، ماحول اور انسان کے اندر پیدا ہونے والے احساسات تصویر سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔

سفر کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے محسوس کیا کہ منزل کے قریب پہنچنے کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

کولاب کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں اپنے خاندان کی پرانی محفلیں تازہ ہونے لگیں۔

وہ نشستیں یاد آئیں جن میں بزرگ حضرت شاہِ ہمدانؒ کے سفر اور ان کے مزار کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔

مجھے اپنے مرحوم والد صاحب بھی یاد آئے۔

ان کے ساتھ گزارے ہوئے وہ لمحات ذہن میں تازہ ہونے لگے جب خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ بیٹھ کر بزرگوں کی باتیں سنتا تھا۔

اس وقت شاید ان گفتگوؤں کی پوری تاریخی اہمیت سمجھ میں نہیں آتی تھی، لیکن آج انہی باتوں نے مجھے تاجکستان کے اس تاریخی شہر کی طرف سفر کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

کولاب کے قریب پہنچتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے برسوں کا انتظار اب ختم ہونے والا ہے۔

جس تاریخی مقام کے بارے میں اتنا کچھ سنا تھا، وہ اب میری آنکھوں کے سامنے آنے والا تھا۔

بالآخر ہم کولاب پہنچ گئے۔

یہ شہر تاجکستان کے جنوبی حصے میں صوبہ ختلان کا ایک اہم تاریخی اور ثقافتی مرکز ہے۔

کولاب کی شناخت مختلف تاریخی روایات، مقامی ثقافت اور حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی ہے۔

شہر میں داخل ہوتے ہوئے میرے دل میں ایک خاص خوشی تھی۔

یہاں پہنچنا میرے لیے صرف ایک سفر کی منزل تک پہنچنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی خواہش کی تکمیل تھی جو بچپن کی یادوں کے ساتھ وابستہ تھی۔

کولاب میں محکمہ سیاحت کے مقامی نمائندے ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے۔

انہوں نے نہایت محبت اور خلوص سے ہمارا خیرمقدم کیا۔

ہمیں بتایا گیا کہ دورے کے دوران ایک مقامی رہنما ہمارے ساتھ رہے گا تاکہ تاریخی مقامات، مزار اور میوزیم کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی جاسکیں۔

مقامی میزبانوں سے تعارف اور مختصر گفتگو کے بعد ہم نے پروگرام کے مطابق آگے بڑھنے کی تیاری کی۔

سب سے پہلے پھول خریدے گئے۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار پر حاضری کے لیے ہم پھول اور چادر ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔

اس کے بعد دوپہر کے کھانے کا انتظام تھا۔

میزبانوں نے کھانے کے دوران بھی علاقے کی تاریخ، ثقافت اور حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار کے بارے میں گفتگو کی۔

ان کے انداز میں ایک خاص اپنائیت تھی۔

جب انہیں معلوم ہوتا کہ ہمارا تعلق کشمیر سے ہے اور ہمارے خاندان میں حضرت شاہِ ہمدانؒ سے نسبت کی روایت موجود ہے تو وہ محبت اور احترام سے گفتگو کرتے۔

کولاب میں ان کی شخصیت کو امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کے نام سے خاص اہمیت حاصل ہے۔

یہاں ان کے نام سے منسوب مختلف مقامات، یادگاریں اور تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں موجود ہیں۔

کھانے اور مختصر تعارف کے بعد ہم اس تاریخی مقام کی طرف روانہ ہوئے جس کا انتظار مجھے برسوں سے تھا۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کا مزار۔

راستے میں ایک لمحے کے لیے میرے ذہن میں عجیب سا خیال آیا۔

اکیس سال پہلے میں تاجکستان آیا تھا، لیکن اس مزار تک پہنچنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔

پھر زندگی کے مختلف سفر شروع ہوگئے۔

کبھی روس کے مختلف شہروں میں صحافتی ذمہ داریاں، کبھی بین الاقوامی کانفرنسیں، کبھی دوسرے ممالک کے دورے اور کبھی روزمرہ زندگی کی مصروفیات۔

لیکن کولاب کا نام ذہن سے محو نہیں ہوا۔

اور اب میں اسی شہر میں موجود تھا۔

جیسے جیسے ہم مزار کے قریب پہنچ رہے تھے، دل میں خاموشی اور بے چینی ایک ساتھ محسوس ہورہی تھی۔

میں سوچ رہا تھا کہ اس مقام پر پہنچ کر کیا محسوس ہوگا۔

وہاں کی تعمیر کیسی ہوگی؟

کیا مزار کے اندر حضرت شاہِ ہمدانؒ کی زندگی کے بارے میں معلومات موجود ہوں گی؟

کیا ان کے کشمیر کے سفر کے تاریخی شواہد دیکھنے کو ملیں گے؟

اور کیا یہاں ہمارے خاندان سے وابستہ کوئی ایسی یادگار بھی موجود ہوگی جس کا تعلق ماضی کی روایتوں سے ہو؟

ان سوالات کے ساتھ ہم مزار کے قریب پہنچ گئے۔

سامنے ایک خوبصورت اور بلند محرابی داخلی دروازہ تھا۔

دروازے کے گرد نیلے، سفید اور دوسرے رنگوں کی کاشی کاری موجود تھی۔ اس کی تعمیر میں وسط ایشیا کے روایتی فنِ تعمیر کی جھلک نمایاں تھی۔

اوپر مختلف زبانوں میں حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کے مزار کا تعارف درج تھا۔

دروازے کی خوبصورتی اور اس کے تاریخی پس منظر نے پہلی ہی نظر میں متاثر کیا۔

میں کچھ دیر اس دروازے کو دیکھتا رہا۔

میرے سامنے ایک تاریخی مقام تھا جس کا نام بچپن سے سنتا آیا تھا۔

ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ صدیوں پہلے حضرت شاہِ ہمدانؒ نے ایران سے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہوئے کشمیر کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔

اور آج کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک مسافر روس کے دارالحکومت ماسکو سے دوشنبہ اور پھر کولاب پہنچا تھا۔

یہ سوچتے ہوئے ماضی اور حال کے درمیان ایک عجیب سا رشتہ محسوس ہوا۔

ہم نے مزار کے بیرونی حصے اور داخلی دروازے کی تصاویر بنوائیں۔

یہ تصاویر میرے لیے محض سیاحت کی یادگار نہیں تھیں۔

ان میں برسوں کی ایک خواہش کی تکمیل محفوظ ہورہی تھی۔

مقامی رہنما ہمیں تاریخی احاطے کے بارے میں بتا رہے تھے۔

احاطے میں خوبصورت تعمیرات، سرسبز جگہیں اور حضرت شاہِ ہمدانؒ سے منسوب یادگاریں موجود تھیں۔

بعض مقامات پر روایتی فنِ تعمیر کے خوبصورت نمونے نظر آرہے تھے۔

یہاں ایک اور بات نے مجھے متاثر کیا۔

لکڑی کے ستونوں اور چھتوں پر ہونے والی باریک نقاشی میں مجھے کشمیر کی روایتی تعمیرات کی جھلک دکھائی دی۔

خاص طور پر سرینگر کی قدیم خانقاہیں، کشمیری لکڑی کے مکانات اور اخروٹ کی لکڑی پر بنائے جانے والے نقش و نگار یاد آگئے۔

یہ مماثلت میرے لیے دلچسپ تھی کیونکہ حضرت شاہِ ہمدانؒ کے ساتھ کشمیر آنے والے ہنرمندوں کے بارے میں تاریخی روایات بھی موجود ہیں۔

وسط ایشیا، ایران اور کشمیر کی دستکاریوں میں نظر آنے والی ایسی مشابہتیں صدیوں پرانے تہذیبی روابط کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔

البتہ کسی مخصوص عمارت یا نقاشی کو انہی ہنرمندوں کا براہِ راست کام قرار دینے کے لیے الگ تاریخی ثبوت ضروری ہے۔

ہم احاطے میں آگے بڑھتے گئے۔

میرے ہاتھ میں پھول تھے اور ذہن میں اپنے خاندان کی پرانی یادیں۔

حسن رضا کیمرے کے ساتھ مختلف مناظر محفوظ کررہے تھے۔

مقامی رہنما ہمیں مزار کی تعمیر، اس کے تاریخی پس منظر اور احاطے کے مختلف حصوں کے بارے میں معلومات فراہم کررہے تھے۔

یہاں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے نام سے منسوب ایک پارک اور دیگر یادگاری مقامات بھی موجود تھے۔

میزبانوں نے بتایا کہ تاجکستان میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کو صرف ایک مذہبی بزرگ کے طور پر نہیں بلکہ ملک کے علمی، ادبی اور تہذیبی ورثے کی ایک اہم شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

یہ بات میرے لیے خاص دلچسپی رکھتی تھی۔

کشمیر میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کی شخصیت کے ساتھ مذہبی، روحانی اور تہذیبی روایات وابستہ ہیں، جبکہ تاجکستان میں بھی ان کی علمی اور تاریخی حیثیت کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

یوں محسوس ہورہا تھا کہ دو دور دراز علاقوں کے لوگ ایک ہی تاریخی شخصیت سے اپنے اپنے انداز میں محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔

بالآخر ہم مزار کے مرکزی حصے کے قریب پہنچ گئے۔

یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے دل برسوں سے منتظر تھا۔

باہر کی دنیا اپنی جگہ موجود تھی۔

صحافتی ذمہ داریاں، ٹورنامنٹ کی مصروفیات، سفر کی تھکن اور آنے والے پروگرام سب اپنی جگہ تھے۔

لیکن اس وقت میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی۔

میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کی آخری آرام گاہ پر پہنچ چکا تھا۔

ہم نے اپنے قدم آہستہ کیے۔

مزار کے اندر داخل ہونے سے پہلے ایک لمحے کے لیے میں نے اس تاریخی مقام کو دوبارہ دیکھا۔

دل میں ایک عجیب سا سکون اترنے لگا۔

وہ بے چینی جو دوشنبہ سے روانگی کے وقت شروع ہوئی تھی، جو بوختار تک سفر کے دوران موجود رہی اور جو کولاب پہنچنے تک بڑھتی گئی تھی، اب آہستہ آہستہ اطمینان میں بدل رہی تھی۔

مجھے اپنے مرحوم والد صاحب کی یاد آئی۔

خاندان کے وہ بزرگ یاد آئے جن کی زبان سے حضرت شاہِ ہمدانؒ کے بارے میں سنا تھا۔

بچپن کی وہ محفلیں یاد آئیں جن میں کولاب اور تاجکستان کا ذکر ایک دور دراز تاریخی مقام کے طور پر ہوتا تھا۔

آج وہ مقام میرے سامنے تھا۔

میں نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس تاریخی مقام تک پہنچنے کی خواہش پوری کی۔

ابھی مزار کے اندر حاضری باقی تھی۔

ابھی فاتحہ پڑھنا تھی۔

ابھی ان تاریخی قبروں کو دیکھنا تھا جن کے بارے میں مقامی روایات موجود ہیں۔

ابھی میوزیم جانا تھا، حضرت شاہِ ہمدانؒ کے سفروں کا نقشہ دیکھنا تھا، ان کی تصانیف اور قلمی نسخوں کے بارے میں جاننا تھا، کشمیر سے وابستہ تاریخی یادگاروں کا مشاہدہ کرنا تھا۔

اور سب سے بڑھ کر، ابھی ایک ایسی تصویر میرے سامنے آنے والی تھی جو مجھے کئی دہائیاں پیچھے اپنے بچپن اور مرحوم والد صاحب کی یادوں میں لے جانے والی تھی۔

لیکن اس وقت مجھے ان آنے والے لمحات کا اندازہ نہیں تھا۔

میں صرف اس تاریخی مقام کے سامنے موجود تھا جہاں پہنچنے کی خواہش اکیس سال سے میرے دل میں محفوظ تھی۔

ماسکو سے دوشنبہ، دوشنبہ سے بوختار اور بوختار سے کولاب تک کی مسافت مکمل ہوچکی تھی۔

اب ایک دوسرے سفر کا آغاز ہونے والا تھا۔

تاریخ، یادداشت، عقیدت اور اپنے اسلاف سے وابستہ روایات کے اندر اترنے کا سفر۔

جاری ہے — قسط چہارم: حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار پر حاضری، سات سو سال کی تاریخ، میوزیم اور بچپن کی یادیں

قسط اول پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط اول:

قسط دوئم پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط دوئم: