’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط چہارم

قسط چہارم:
حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار پر حاضری، سات سو سال کی تاریخ، میوزیم اور بچپن کی یادیں

اشتیاق ہمدانی –

بعض منزلیں محض جغرافیائی مقامات نہیں ہوتیں۔ ان تک پہنچنے کے لیے انسان کو صرف راستے ہی طے نہیں کرنے پڑتے، بلکہ یادوں، روایتوں اور وقت کی کئی منزلوں سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔

کولاب میں حضرت امیرِ کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کے مزار کے سامنے کھڑے ہوکر مجھے کچھ ایسا ہی محسوس ہورہا تھا۔

وہ مقام جس کا ذکر بچپن میں اپنے خاندان کے بزرگوں سے سنا تھا، اب میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ ایک طویل عرصے سے دل میں محفوظ خواہش پوری ہونے جارہی تھی۔

مزار کا بلند محرابی دروازہ نیلے، سفید اور دوسرے رنگوں کی کاشی کاری سے آراستہ تھا۔ اس کی تعمیر میں وسط ایشیا کے روایتی فنِ تعمیر کی خوبصورتی نمایاں تھی۔ دروازے کے اوپر تاجک، فارسی اور انگریزی زبانوں میں حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کے مزار کا تعارف درج تھا۔

ہمارے ساتھ محکمہ سیاحت کے مقامی نمائندے موجود تھے، جنہوں نے نہایت محبت سے اس تاریخی مقام کا تعارف کروایا۔

ہم پھول اور چادر ساتھ لائے تھے۔

مزار کے احاطے میں داخل ہوئے تو ایک پُرسکون ماحول نے استقبال کیا۔ خوبصورت تعمیر، سرسبز جگہیں، تاریخی عمارت اور زائرین کے لیے موجود سہولتیں اس مقام کی اہمیت ظاہر کررہی تھیں۔

مرکزی حصے میں پہنچے تو سفید نقش دار دیواریں، محرابی راستے اور سبز قالین نظر آئے۔ قبر پر سبز رنگ کا خوبصورت غلاف موجود تھا جس پر سنہری نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ قریب ایک تختی پر حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کا نام اور 1314ء سے 1385ء تک کی تاریخیں درج تھیں۔

حسن رضا میرے ساتھ تھے۔ ہم نے عقیدت سے چادر اور پھول پیش کیے، فاتحہ پڑھی اور کچھ دیر دعا میں مصروف رہے۔

اس لمحے میرے ذہن میں کئی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔

خصوصاً اپنے مرحوم والد صاحب کی یاد آئی، جن کے ساتھ بچپن میں خاندان کی ایسی محفلوں میں شرکت کی تھی جہاں حضرت شاہِ ہمدانؒ کا ذکر ہوا کرتا تھا۔

میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔

زندگی میں بہت سے تاریخی مقامات دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے، لیکن بعض جگہوں سے انسان کا تعلق معلومات سے زیادہ احساسات کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔

یہاں میرے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔

مزار کے اندر ایک بات نے خصوصی توجہ حاصل کی۔ پاکستان اور کشمیر کے بعض معروف مزارات پر نذرانوں اور مختلف مذہبی رسومات کے انتظامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہاں میرے مشاہدے میں اس نوعیت کی کوئی نمایاں سرگرمی نہیں آئی۔

زائرین خاموشی سے آتے، فاتحہ پڑھتے، کچھ دیر بیٹھتے اور واپس چلے جاتے۔ دونوں طرف کرسیاں موجود تھیں جن پر بعض لوگ بیٹھ کر دعا کرتے تھے۔ احاطے میں ایک چھوٹی مسجد اور وضو کی سہولت بھی تھی۔

اس سادگی نے ماحول کو مزید پُرسکون بنا رکھا تھا۔

مقامی رہنماؤں نے مزار کے مختلف حصوں اور وہاں موجود قبروں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔

تاجکستان کے سیاحتی تعارف کے مطابق اس تاریخی احاطے میں مختلف جسامت کی بارہ قبریں اور عمارت کے آٹھ کمرے موجود ہیں۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کے علاوہ ان کے خاندان اور بعض قریبی وابستگان سے منسوب قبریں بھی یہاں موجود ہیں۔ تاریخی حوالوں میں ان کے صاحبزادے سید محمد ہمدانی اور شیخ شاہی طالقانی کے نام ملتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی اہلیہ اور دختر اور اولادن شاہ ہمدان کی قبور موجود ہیں.

مزار کی تعمیر بھی اپنی جگہ ایک اہم تاریخی موضوع ہے۔

اس مجموعے میں مختلف ادوار کی تعمیرات شامل ہیں۔ بنیادی عمارت کی نسبت قرونِ وسطیٰ سے کی جاتی ہے، جبکہ بعد کے زمانوں میں اس کی توسیع، مرمت اور بحالی کا کام ہوتا رہا۔

مقامی رہنماؤں نے بتایا کہ تاجکستان کی حکومت نے اس تاریخی ورثے کے تحفظ اور احاطے کو بہتر بنانے میں خصوصی دلچسپی لی ہے۔

دیوار پر آویزاں تاریخی تعارف میں 1995ء اور 2005ء کے برس بھی نمایاں تھے۔ ان تاریخوں کو دیکھ کر مجھے اپنا پہلا دورۂ تاجکستان یاد آگیا، جو 2005ء میں ہوا تھا۔

مقامی لوگ حضرت شاہِ ہمدانؒ کو امیرِ جان کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔

کشمیر میں وہ شاہِ ہمدانؒ کے نام سے معروف ہیں، جبکہ تاجکستان میں ان کی شناخت ایک عظیم صوفی، عالم، مصنف اور تاریخی شخصیت کے طور پر نمایاں ہے۔

ان کی تصویر تاجکستان کے دس سومونی کے کرنسی نوٹ پر بھی موجود ہے۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کی شخصیت ملک کے قومی اور ثقافتی ورثے میں اہم مقام رکھتی ہے۔

زیارت کے دوران مقامی لوگوں سے ہونے والی ملاقاتیں بھی یادگار رہیں۔

جب انہیں معلوم ہوتا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں اور ہمارا تعلق کشمیر سے ہے تو وہ محبت سے گفتگو کرتے۔ بعض لوگ حضرت شاہِ ہمدانؒ کے کشمیر سے تعلق کے بارے میں سوال کرتے، جبکہ کچھ ان کے تاریخی مقام کا ذکر کرتے۔

جب ہم اپنے خاندان میں ان سے نسبت کی روایت کا تذکرہ کرتے تو ان کی دلچسپی مزید بڑھ جاتی۔

یہ احساس خوش گوار تھا کہ دو مختلف خطوں کے لوگوں کے درمیان ایک تاریخی شخصیت تعارف اور محبت کا ذریعہ بن رہی تھی۔

مزار سے نکل کر ہمیں اس سے منسلک پارک اور دوسرے یادگاری مقامات دکھائے گئے۔

ایک مقام پر حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کا نام تاجک زبان میں نمایاں تھا۔ اس کے ساتھ تاجکستان کی آزادی کے پینتیس برس مکمل ہونے کے حوالے سے 1991ء سے 2026ء تک کا عرصہ درج تھا۔

یہاں ایک طرف ملک کی جدید تاریخ سامنے تھی اور دوسری طرف صدیوں پرانی علمی و روحانی روایت کی یاد۔


اسی علاقے میں لکڑی سے تعمیر کیے گئے ایک خوبصورت روایتی چبوترے نے میری توجہ حاصل کی۔

اس کے ستونوں، چھت اور کناروں پر انتہائی نفیس نقاشی کی گئی تھی۔ پھولوں، پتوں، بیل بوٹوں اور جیومیٹریائی اشکال کے نقش دیکھ کر مجھے کشمیر کی قدیم خانقاہیں اور لکڑی کی تعمیرات یاد آگئیں۔

خاص طور پر سرینگر کی روایتی عمارتیں، اخروٹ کی لکڑی پر باریک نقاشی اور بعض کشمیری گھروں کی آرائش ذہن میں تازہ ہوگئی۔

ایران اور وسط ایشیا کے بعض تاریخی تعمیراتی نمونوں میں بھی لکڑی، محرابوں اور پھولوں کے نقوش کا استعمال ملتا ہے۔

ان علاقوں کے فنون میں موجود مماثلتیں صدیوں پرانے تہذیبی روابط کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔

کشمیر کی تاریخی روایات میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے ساتھ آنے والے علماء اور ہنرمندوں کا خصوصی ذکر ملتا ہے۔

بعض روایات کے مطابق ان کے ہمراہ تقریباً سات سو افراد آئے تھے، جن میں علماء، سادات، شاگرد اور مختلف فنون سے واقف لوگ شامل تھے۔

اگرچہ ان کی مکمل تعداد اور پیشوں کی تفصیلات پر تاریخی اتفاق نہیں، لیکن ان روایات سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں علمی اور روحانی سفر کے ساتھ ثقافتی تبادلے بھی ہوتے رہے۔

کشمیر کی شال سازی، قالین بافی، کاغذی ماشے، خطاطی اور لکڑی کی نقاشی کی تاریخ میں ایران اور وسط ایشیا کے اثرات ملتے ہیں۔

ان میں بعض فنون کی روایت حضرت شاہِ ہمدانؒ کی آمد سے پہلے بھی موجود تھی اور بعد کے زمانوں میں بھی ان کی ترقی جاری رہی۔ اس لیے ان تمام فنون کی ابتدا کسی ایک سفر سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔

تاہم حضرت شاہِ ہمدانؒ اور ان کے ساتھ منسوب ہنرمندوں کا نام کشمیر کے تہذیبی تبادلوں کی روایت میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

کشمیر میں اخروٹ کی لکڑی پر نقاشی اس کی نمایاں مثال ہے۔

اس لکڑی سے خوبصورت میزیں، صندوق، الماریاں، آرائشی اشیاء اور خشک میوہ جات رکھنے کی ٹرے تیار کی جاتی ہیں۔ کاریگر لکڑی پر نہایت باریک پھول، بیل بوٹے اور دیگر نقوش تراشتے ہیں۔

کولاب میں لکڑی کی نقاشی دیکھ کر مجھے ان کشمیری فنون کی یاد آرہی تھی۔

ان مماثلتوں نے یہ احساس مزید گہرا کیا کہ ایران، وسط ایشیا اور کشمیر کے درمیان تاریخی روابط صرف مذہبی یا علمی نوعیت کے نہیں تھے، بلکہ فنون اور روزمرہ زندگی کی روایات بھی ان کے ساتھ سفر کرتی رہی ہیں۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ سے منسوب سوانحی روایات میں محنت اور ہنرمندی کو اہمیت دینے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

بعض حوالوں میں ان کے ہاتھ سے ٹوپیاں سینے کی روایت موجود ہے۔ اسی طرح کشمیر کی زبانی روایات میں دستکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ دوبارہ اسی کام کے فروغ پر خرچ کرنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔

بعض روایات میں نصف آمدنی دوبارہ کام میں لگانے کی بات بھی ملتی ہے، تاہم اسے حضرت شاہِ ہمدانؒ کا باقاعدہ مقرر کردہ معاشی اصول ثابت کرنے کے لیے مستند تاریخی شواہد درکار ہیں۔

اس تصور کی بنیادی اہمیت بہرحال واضح ہے۔

ہنر صرف ایک شخص کی روزی کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ تربیت اور تجربے کے ذریعے آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔

کشمیر میں خواتین کی روایتی کڑھائی، شالوں کی آرائش، سوزنی، قالین سازی اور دیگر دستکاریاں اسی طویل سلسلے کی مثالیں ہیں۔

ان فنون نے مختلف ادوار میں ہزاروں خاندانوں کے معاشی اور معاشرتی حالات میں کردار ادا کیا۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ سے وابستہ بعض مقامی روایات میں کشمیر کی سرسبزی، درختوں، باغبانی اور آبادکاری کا تصور بھی ملتا ہے۔

اگرچہ ان کے کسی باقاعدہ شجرکاری منصوبے کی تاریخی تصدیق موجود نہیں، لیکن ان روایات میں معاشرتی بہتری اور محنت سے زندگی گزارنے کی اہمیت نمایاں ہے۔

یہاں مجھے ایران، افغانستان، تاجکستان اور کشمیر کی خوراک اور دستکاریوں میں پائی جانے والی بعض مماثلتیں بھی یاد آئیں۔

اخروٹ، خشک میوہ جات، مختلف قسم کے کلچے، روایتی روٹیاں اور لکڑی سے تیار ہونے والی اشیاء ان علاقوں میں مختلف انداز سے ملتی ہیں۔

ان میں سے ہر چیز کی اپنی تاریخ ہے، لیکن یہ مماثلتیں ان خطوں کے درمیان قدیم تجارتی اور تہذیبی روابط کا تصور پیش کرتی ہیں۔

ان خیالات کے ساتھ ہم میوزیم کی طرف بڑھے۔

میرے لیے اس دورے کی خاص اہمیت تھی، کیونکہ میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے سفروں، علمی ورثے اور کشمیر سے تعلق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتا تھا۔

میوزیم میں داخل ہوئے تو دیواروں پر تاریخی تصاویر، دستاویزات، خطاطی، قدیم نسخے اور دوسری یادگاریں موجود تھیں۔

بعض تصاویر مختلف ممالک سے آنے والی شخصیات کے دوروں سے متعلق تھیں، جبکہ بعض حضرت شاہِ ہمدانؒ کی زندگی اور علمی خدمات کی نمائندگی کرتی تھیں۔

ایک مقام پر فارسی زبان میں خوبصورت خطاطی کے ساتھ اشعار آویزاں تھے۔

سنہری حروف میں لکھی گئی شاعری میں حضرت علیؓ سے عقیدت اور روحانی نسبت کا اظہار نمایاں تھا۔

انہیں دیکھ کر فارسی زبان کی اس عظیم علمی و ادبی روایت کا خیال آیا جس سے حضرت شاہِ ہمدانؒ کا گہرا تعلق تھا۔

فارسی صدیوں تک ایران، وسط ایشیا اور کشمیر کے درمیان علم، ادب، تاریخ، فلسفے اور تصوف کے اظہار کا اہم ذریعہ رہی۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ بھی اسی وسیع علمی روایت سے تعلق رکھتے تھے۔

میوزیم میں ان کی متعدد تصانیف کے نسخے اور نقول بھی موجود تھیں۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ صرف ایک صوفی بزرگ اور مبلغ نہیں تھے بلکہ ایک صاحبِ تصنیف عالم اور مفکر بھی تھے۔

ان سے منسوب کتابوں اور رسائل کی تعداد کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

بعض تحقیقی ذرائع میں ایک سو سے زیادہ تصانیف اور مختصر رسائل کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بعض فہرستوں میں تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔

اس اختلاف کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض محققین مختصر رسائل کو الگ تصنیف شمار کرتے ہیں، جبکہ بعض انہیں مجموعوں کی صورت میں درج کرتے ہیں۔

ان کی نمایاں تصانیف میں ذخیرۃ الملوک، اورادِ فتحیہ، چہل اسرار، المودۃ فی القربیٰ، رسالہ دہ قاعدہ، رسالہ فتوتیہ، رسالہ اعتقادیہ، مشارب الاذواق اور رسالہ ذکریہ شامل ہیں۔

ذخیرۃ الملوک ان کی معروف فارسی تصنیف ہے جس میں اخلاقیات، حکمرانی، انصاف، انسانی کردار اور معاشرتی ذمہ داریوں پر گفتگو کی گئی ہے۔

اورادِ فتحیہ دعا اور ذکر سے متعلق ان کی معروف تصنیف ہے، جبکہ چہل اسرار میں صوفیانہ افکار اور روحانی موضوعات پر شاعری ملتی ہے۔

المودۃ فی القربیٰ میں اہلِ بیت سے متعلق روایات جمع کی گئی ہیں۔

رسالہ دہ قاعدہ، رسالہ فتوتیہ اور دوسرے مختصر رسائل میں روحانی تربیت، اخلاقی کردار اور تصوف کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ملتی ہے۔

ان تصانیف کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت شاہِ ہمدانؒ کی علمی دلچسپی کسی ایک موضوع تک محدود نہیں تھی۔

ان کی تحریروں میں مذہبی تعلیمات کے ساتھ اخلاقیات، انسانی ذمہ داریاں اور اجتماعی زندگی جیسے موضوعات بھی نمایاں ہیں۔

میوزیم میں قدیم قرآنِ مجید کے نسخے بھی موجود تھے۔

مجھے ایک قدیم طرز کے خوبصورت نسخے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

اس کے صفحات، خطاطی، حاشیوں اور آرائش کو دیکھتے ہوئے ان کاتبوں اور خطاطوں کی محنت کا خیال آیا جو جدید طباعت کے دور سے پہلے کتابوں کی نقل تیار کرتے تھے۔

اس زمانے میں ایک کتاب کی تیاری کے لیے کاغذ، سیاہی، کتابت، حاشیہ آرائی اور جلد سازی جیسی کئی مہارتوں کی ضرورت ہوتی تھی۔

یوں ایک قلمی نسخہ علمی مواد کے ساتھ اپنے عہد کی فنکارانہ روایت بھی محفوظ رکھتا تھا۔

میوزیم میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی تصاویر بھی موجود تھیں۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت کئی اہم شخصیات کے دوروں کی تصاویر دکھائی گئیں۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال اور ان کے اہلِ خانہ کی تصویر بھی وہاں موجود تھی۔

اسی طرح آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں حضرت شاہِ ہمدانؒ کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کی یادگاری تصویر یا شیلڈ نے میری توجہ حاصل کی۔

**اس کانفرنس کا درست سال، منتظم ادارہ اور یادگاری شیلڈ کی مکمل تفصیلات تصدیق طلب ہیں۔ ابتدائی یادداشت میں 1985ء کا حوالہ موجود ہے۔**

کولاب کے میوزیم میں کشمیر اور مظفرآباد سے وابستہ یادگاریں دیکھنا میرے لیے ایک خاص تجربہ تھا۔

ان سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ تاریخی مقام مختلف ادوار میں پاکستان، کشمیر اور دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔

لیکن ان سب کے درمیان ایک بڑے نقشے نے میری توجہ خاص طور پر اپنی طرف مبذول کروائی۔

اس کے اوپر تاجک زبان میں ’’سفرہائے بزرگوار‘‘ لکھا تھا، یعنی ایک عظیم بزرگ کے سفر۔

نقشے پر سرخ خطوط مختلف شہروں اور علاقوں کو آپس میں ملاتے تھے۔

ہمدان، تبریز، سمنان، اصفہان، بغداد، مکہ، مدینہ، خراسان، ماوراءالنہر، بدخشاں، ختلان، کابل اور کشمیر جیسے مقامات اس کے وسیع جغرافیائی دائرے میں شامل تھے۔

یہ نقشہ حضرت شاہِ ہمدانؒ کے تاریخی سفروں کی نمائندگی کرتا تھا۔

تاہم اس میں موجود خطوط کو ان کے ہر سفر کی قطعی زمانی ترتیب یا تمام مقامات پر قیام کے حتمی ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

میں کافی دیر اس نقشے کو دیکھتا رہا۔

حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی پیدائش 22 اکتوبر 1314ء کو ایران کے شہر ہمدان میں ہوئی۔

ان کی ابتدائی زندگی دینی علوم اور روحانی تربیت میں گزری۔ ان کے اساتذہ اور روحانی رہنماؤں میں محمود مزدقانی اور علی دوستی کے نام اہم ہیں۔

ان کا تعلق تصوف کے کبرویہ سلسلے سے تھا۔

تاریخی مآخذ کے مطابق تقریباً 1334ء کے آس پاس انہوں نے اپنے وسیع سفروں کا آغاز کیا۔

ان سفروں میں ایران کے مختلف علاقے، عراق، شام، حجاز، خراسان، خوارزم، ماوراءالنہر اور دوسرے تاریخی خطے شامل رہے۔

حجاز میں مکہ اور مدینہ کے سفر کا ذکر بھی ان کی سوانح میں ملتا ہے۔

اس زمانے میں علمی اور روحانی سفر مختلف علاقوں کے علماء اور مشائخ کے درمیان روابط کا اہم ذریعہ تھے۔

تقریباً بیس سال کے وسیع سفروں کے بعد 1353ء کے آس پاس ان کے دوبارہ ہمدان میں قیام کا ذکر ملتا ہے۔

بعد کے زمانے میں وسط ایشیا کے سیاسی حالات اور علاقائی تبدیلیوں کے پس منظر میں ان کی زندگی کا ایک نیا سفری مرحلہ شروع ہوا۔

اس دوران خراسان، بلخ، ماوراءالنہر، بدخشاں اور ختلان کے علاقوں کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

تقریباً 1371ء کے آس پاس ختلان میں ان کے قیام کا ذکر تاریخی مآخذ میں موجود ہے۔

یہ وہی تاریخی خطہ تھا جس کے اہم شہر کولاب میں ہم موجود تھے۔

ان کے صاحبزادے میر محمد ہمدانی کی پیدائش کا ذکر بھی اسی خطے میں 1372ء کے قریب ملتا ہے۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کے کشمیر کے سفر کی تاریخ اور تعداد کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔

ایک معروف روایت کے مطابق وہ تین مرتبہ کشمیر آئے۔

پہلی آمد 1372ء یا 1373ء کے قریب، دوسری اہم آمد 1379ء میں سلطان قطب الدین کے عہد میں، جبکہ تیسری آمد 1383ء یا 1384ء کے قریب بیان کی جاتی ہے۔

تاہم بعض قدیم تاریخی مآخذ صرف ایک آمد کا ذکر کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے کشمیر کے سفروں کی تعداد اور ترتیب کے بارے میں تاریخی اختلاف اب بھی موجود ہے۔

کشمیر میں ان کی علمی اور روحانی سرگرمیوں نے مقامی معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔

ان سے وابستہ خانقاہی روایت نے دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور اجتماعی زندگی میں کردار ادا کیا۔ ان کے صاحبزادے میر محمد ہمدانی اور دیگر وابستگان نے بعد کے زمانے میں اس روایت کو آگے بڑھایا۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کی زندگی کے آخری سفر اور وفات کے مقام کے بارے میں بھی مختلف روایات موجود ہیں۔

کشمیر میں ہمارے خاندان کے بزرگوں سے جو روایت ہم تک پہنچی، اس میں ان کی زندگی کے آخری ایام اور وفات کے مقام مہانسرہ کے قریب ایک ایسی جگہ سے منسوب کیا جاتا ہے جہاں آج بھی ان کی بیٹھک موجود بتائی جاتی ہے۔

دوسری طرف بعض معتبر تاریخی مآخذ کے مطابق ان کی وفات 19 جنوری 1385ء کو کنڑ کے قریب ہوئی، جسے آج افغانستان کے جغرافیائی تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔

بعض دوسری روایات میں پکھلی اور ہزارہ کے علاقے کا ذکر ملتا ہے، جو موجودہ پاکستان میں واقع ہیں۔

اس حوالے سے تاریخی اختلاف اب بھی موجود ہے۔

تاہم ان کی آخری آرام گاہ کولاب میں واقع ہے۔ تاریخی روایت کے مطابق ان کا جسدِ خاکی ختلان منتقل کیا گیا اور یہاں سپردِ خاک کیا گیا۔

نقشے پر ان مختلف خطوں کو دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہورہا تھا کہ چودھویں صدی میں ان مسافتوں کو طے کرنا کس قدر دشوار رہا ہوگا۔

آج ہم جدید گاڑیوں اور ہوائی جہازوں سے چند گھنٹوں میں طویل فاصلے طے کرلیتے ہیں، لیکن اس زمانے میں یہی سفر ہفتوں اور مہینوں پر محیط ہوتے تھے۔

ان مسافتوں کے ذریعے علم، زبان، کتابیں، روحانی روایات اور تہذیبی اثرات بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچتے رہے۔

نقشے کو دیکھتے ہوئے ایک خیال میرے ذہن میں ابھرا۔

صدیوں پہلے حضرت شاہِ ہمدانؒ ایران اور وسط ایشیا سے کشمیر گئے تھے۔

اور آج کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک مسافر روس کے دارالحکومت ماسکو سے دوشنبہ اور پھر کولاب پہنچا تھا۔

یہ میرے لیے محض ایک تاریخی مماثلت نہیں تھی۔

اس کے ساتھ میرے خاندان کی یادداشت اور کشمیر کی تہذیبی تاریخ بھی وابستہ تھی۔

میوزیم میں موجود نسب ناموں اور خاندان سے متعلق معلومات نے بھی میری دلچسپی بڑھائی۔

ہمارے خاندان میں حضرت شاہِ ہمدانؒ سے نسبت کی روایت موجود ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسی روایات کو محفوظ کرنے کے ساتھ ان کی تاریخی اور دستاویزی تحقیق بھی ضروری ہے۔

کسی میوزیم میں موجود نسب نامہ دیکھ لینا اپنی خاندانی نسبت کا قطعی ثبوت نہیں ہوتا۔ اس کے لیے قدیم دستاویزات، نسل در نسل محفوظ شجرہ ہائے نسب اور دوسرے تاریخی ذرائع کا تقابلی مطالعہ درکار ہے۔

ان معلومات کو دیکھنے کے بعد میری نظر میوزیم کی دیوار پر موجود ایک تصویر پر پڑی۔

یہ تصویر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب کی تھی۔

اسے دیکھ کر میں چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔

میرے ذہن میں بچپن کی ایک خاندانی نشست تازہ ہوگئی۔

ہمارے خاندان کی روایت کے مطابق ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب ان اولین افراد میں شامل تھے جنہوں نے سوویت یونین کے دور میں تاجکستان کا سفر کیا اور حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

اس زمانے میں سوویت وسط ایشیا کے مذہبی مقامات تک رسائی آج کی طرح آسان نہیں تھی۔ مذہبی اداروں اور سرگرمیوں پر مختلف ادوار میں پابندیاں اور انتظامی کنٹرول رہے تھے۔

ایسے ماحول میں کسی تاریخی مزار کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور انہیں کشمیر و پاکستان تک پہنچانا اپنی اہمیت رکھتا تھا۔

ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب نے وطن واپسی کے بعد ہمارے خاندان اور برادری کے بزرگوں کو اپنے سفر کی روداد سنائی تھی۔

مجھے آج بھی وہ اجتماع یاد ہے۔

میری عمر شاید چودہ یا پندرہ سال تھی۔

میں اپنے مرحوم والد صاحب، بھائی عاشق ہمدانی صاحب کے ساتھ اس نشست میں شریک ہوا تھا۔ ہماری برادری کے کئی بزرگ وہاں جمع تھے۔

جہلم ویلی میں ایک مقام جگنی جہان صرف سید مظفر شاہ صاحب مرحوم کا ایک ہی گھر ہوتا تھا وہاں ساری برادری کی دعوت تھی جہاں تاجکستان سے واپسی پر ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب روالپنڈی سے تشریف لائے تھے.

ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب نے تاجکستان کے سفر، حضرت شاہِ ہمدانؒ کے مزار اور وہاں کی صورتِ حال کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی تھی۔

اس عمر میں ان کی ہر بات کا تاریخی پس منظر پوری طرح سمجھ میں نہیں آتا تھا، لیکن وہ مجلس یادداشت میں محفوظ رہ گئی۔

آج بھی اس اجتماع کے کئی چہرے یاد آتے ہیں۔

ان میں سے بعض بزرگ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وقت کے ساتھ خاندان کی بہت سی محفلیں بھی ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔

لیکن ان کی یادیں باقی ہیں۔

کولاب کے میوزیم میں ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب کی تصویر دیکھ کر وہ پوری نشست میرے سامنے آگئی۔

میں سوچ رہا تھا کہ ایک وقت تھا جب اپنے مرحوم والد صاحب کے ساتھ بیٹھ کر ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب سے کولاب کی داستان سن رہا تھا۔

اور آج خود اسی کولاب کے میوزیم میں کھڑا اس شخص کی تصویر دیکھ رہا تھا جس نے ہمارے خاندان تک اس مقام کے بارے میں معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

زندگی کبھی کبھی انسان کو ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے ملتے محسوس ہوتے ہیں۔

یہ تصویر میرے لیے محض ایک تاریخی دستاویز نہیں تھی۔

اس کے ساتھ میرے والد صاحب کی یاد، خاندان کے بزرگوں کی محفلیں اور بچپن کی وہ باتیں وابستہ تھیں جو وقت گزرنے کے باوجود ذہن میں محفوظ رہی تھیں۔

میں نے اس تصویر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔

اس لمحے یہ خواہش بھی پیدا ہوئی کہ ہمارے خاندان کی پرانی دستاویزات، شجرہ ہائے نسب، بزرگوں کی یادداشتیں، تصاویر اور ڈاکٹر آغا ہمدانی صاحب جیسے افراد کے تاریخی کام کو باقاعدہ جمع کیا جائے۔

یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوسکتا ہے۔

میوزیم سے نکلتے ہوئے میں نے ایک مرتبہ پھر اس کے اندر موجود تاریخی یادگاروں پر نظر ڈالی۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کی تصانیف، قدیم نسخے، فارسی خطاطی، مختلف شخصیات کی تصاویر اور ان کے سفر کا نقشہ، سب اپنے اندر تاریخ کے الگ الگ پہلو سموئے ہوئے تھے۔

وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔

ہم صبح سے سفر میں تھے۔ بوختار میں قیام، کولاب پہنچنے کی بے چینی، مزار پر حاضری، مقامی لوگوں سے ملاقاتیں اور میوزیم کے دورے کے دوران اندازہ ہی نہیں ہوا کہ شام کب قریب آگئی۔

میرا دل چاہتا تھا کہ یہاں مزید وقت گزاروں۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کے علمی ورثے کو زیادہ تفصیل سے دیکھوں، مقامی محققین سے ملاقات کروں اور کشمیر سے متعلق تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کروں۔

میزبانوں نے بتایا کہ دوشنبہ میں بھی حضرت شاہِ ہمدانؒ سے منسوب قلمی نسخوں اور ان کے علمی ورثے کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

اس اطلاع نے میری دلچسپی بڑھا دی۔

میں نے فیصلہ کیا کہ دوشنبہ واپسی کے بعد اگر وقت ملا تو متعلقہ علمی ادارے سے ضرور رابطہ کروں گا۔

مزار کے قریب موجود یونیورسٹی اور کتب خانے کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں، جہاں ان کی تصانیف اور ان سے متعلق علمی مواد کی موجودگی کا ذکر ہوا۔

شام ڈھلنے لگی تھی۔

مزار کے بیرونی دروازے کے قریب پہنچے تو رات کی روشنی میں اس کا منظر اور بھی دلکش ہوگیا۔

نیلے اور سفید رنگوں کی کاشی کاری سے مزین بلند محراب روشن نظر آرہی تھی۔

ہم نے اس تاریخی دروازے کے سامنے یادگاری تصاویر بنوائیں۔

یہ تصاویر میرے لیے صرف ایک سیاحتی دورے کی یادگار نہیں تھیں بلکہ ان کے ساتھ برسوں کی ایک خواہش کی تکمیل وابستہ تھی۔

مغرب کی نماز کے بعد ہمیں دوشنبہ کی طرف روانہ ہونا تھا۔

میں ایک مرتبہ پھر مزار کی طرف متوجہ ہوا۔

دل میں اطمینان تھا کہ ایک دیرینہ خواہش پوری ہوچکی ہے، لیکن اس کے ساتھ تاریخ کے کئی نئے سوال بھی پیدا ہوگئے تھے۔

حضرت شاہِ ہمدانؒ کے اصل قلمی نسخے کہاں محفوظ ہیں؟

ان کی تمام تصانیف کی مستند فہرست کس حد تک مرتب ہوچکی ہے؟

کشمیر اور ختلان کے درمیان تاریخی روابط پر مزید کون سی دستاویزات موجود ہیں؟

اور ہمارے خاندان کی روایات کو کن تاریخی ذرائع سے جانچا جاسکتا ہے؟

شاید ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر کولاب آنا پڑے۔

اس بار صرف چند گھنٹوں کے لیے نہیں، بلکہ زیادہ وقت لے کر۔

کولاب میں ایک دیرینہ خواہش پوری ہوئی تھی، مگر اس مقام نے میرے سامنے تحقیق کے کئی نئے دروازے بھی کھول دیے تھے۔

مغرب کی نماز کے بعد اب اپنے میزبانوں سے رخصت ہونے اور دوشنبہ واپسی کا وقت آگیا تھا۔

جاری ہے — قسط پنجم: کولاب سے دوشنبہ واپسی، قلمی نسخوں کی تلاش اور تاجکستان سے یادگار رخصتی

قسط اول پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط اول:

قسط دوئم پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط دوئم:

قسط اول پڑھنے کے لئے اس لنک پر جایئں
’’دوشنبہ سے کولاب‘‘ — سفرنامہ — قسط سوئم: