صدر پوتن نے یورپی ممالک کے جنگ کے الزامات کو سیاسی پاگل پن قرار دے دیا

Putin Putin

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ یورپی حکام کے بار بار اس دعوے کہ روس ان کے ممالک کے لیے جنگ کا خطرہ ہے، ”سیاسی پاگل پن“ کے مترادف ہیں۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو ماسکو کے بولشوی تھیٹر میں تھیٹر ورکرز کانگریس میں شرکت کے بعد روسی صحافی پاول زاروبین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔صدر پوتن نے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ ماسکو کسی بھی طرح یورپ سے جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو براعظم میں جاری ”روس مخالف مہم“ کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا اب وہ اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ مسلسل ’روسی خطرے‘ کی بات کرتے ہیں اور یہاں تک کہ روس سے جنگ کی تیاریوں پر بحث کرتے ہیں — جو میرے خیال میں ایک طرح کا سیاسی پاگل پن ہے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ یہ ختم ہو جائے گا۔“صدر پوتن نے کہا کہ یوکرین تنازعے نے واضح کر دیا ہے کہ روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو ”اسٹریٹجک شکست“ پہنچانے کا خیال ”بالکل غیر حقیقت پسندانہ“ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جو لوگ اب بھی ایسے منظرنامے کا خیال رکھتے ہیں وہ ”جدید زندگی کی حقیقتوں کو تسلیم کر لیں گے۔ انہوں نے کہا انہیں امید ہے کہ وہ سمجھ جائیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا بہتر ہے — یہ راستہ واقعی ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔ اگر آپ یورپ میں جاری سیاسی عمل کو دیکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یورپی عوام روس سے جنگ نہیں چاہتے۔“صدر پوتن نے کہا کہ حقیقت میں روس یوکرین سے لڑنا بھی نہیں چاہتا، کیونکہ روس اور یوکرینیوں کے درمیان مشترکہ ماضی اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ تاہم کیف نے خود 2014 میں جنگ کا انتخاب کیا جب اس نے اس وقت کے یوکرینی ڈونباس کے لوگوں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا جنہوں نے میدان بغاوت کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین نے ماسکو کی بار بار ثالثی کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا۔صدر پوتن نے کہا گر موجودہ یوکرینی قیادت لڑنا چاہتی ہے تو لڑے۔ لیکن وہ دوسروں سے بل ادا کرنے اور ہتھیار فراہم کرنے کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ میرا خیال ہے ان کے پاس دلائل ہیں — ممکنہ طور پر ماضی کے مدد کے وعدوں پر مبنی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ’مدد‘ آخری یوکرینی تک جاری رہنے والی تھی۔

روسی صدر نے ماسکو اور کیف کے درمیان علاقائی مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ سابقہ یوکرینی علاقوں کے نقصان کو اس طرح نہیں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ وہ کبھی یوکرینی نہیں تھے۔ انہوں نے زور دیا یہ ان کا علاقہ نہیں، یہ تاریخی روس کا حصہ ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی رہائشیوں نے یوکرین سے الگ ہو کر روس میں شامل ہونے کے لیے ووٹ دیا۔صدر پوتن نے کہا کہ روس یوکرین تنازعے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ماسکو کی واشنگٹن اور کیف کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی رضامندی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد امن معاہدوں کے بعد یوکرین اور روس دونوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے پر بات کرنا ہو گا، خاص طور پر حتمی اور طویل المدتی معاہدے، نہ کہ محض عارضی جنگ بندی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت میں وسیع تر یورپی سیکیورٹی ڈھانچہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ماسکو نے اعلان کیا تھا کہ وہ صدر پوتن کی بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کے بعد سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ کرملین معاون یوری اشاکوف نے بعد میں کہا کہ اگلا دور ابوظہبی میں نومبر کے وسط کے قریب ہو سکتا ہے۔