ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی روس کے ساتھ طویل مدتی گیس سپلائی معاہدے ختم کرنے کے بعد درآمدی گیس کی پانچ گنا زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے۔ برلن زائٹنگ کی رپورٹ کے مطابق برلن کو اب غیر مستحکم بین الاقوامی توانائی منڈی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہے۔
یورپ کی صنعتی طاقت رہنے والے جرمنی نے 2022 میں یوکرین تنازع کے بعد روسی گیس کی درآمدات بند کر دی تھیں، جس سے اس کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا۔ پابندی سے قبل روس جرمنی کی قدرتی گیس درآمدات کا 55 فیصد فراہم کرتا تھا، جبکہ اب ناروے (44 فیصد)، نیدرلینڈز (24 فیصد) اور بیلجیئم (21 فیصد) سے گیس حاصل کی جا رہی ہے، اور امریکی ایل این جی باقی حصے کا احاطہ کرتی ہے۔
برلن زائٹنگ کے مطابق جرمنی کی گیس درآمدی قیمت 2020 میں 12 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ سے بڑھ کر اس ہفتے 60 یورو تک پہنچ گئی ہے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ پرانے روسی معاہدے مارکیٹ قیمت سے سستے تھے، اور اب ناروے کی پائپ لائنیں مکمل صلاحیت پر ہونے کے باعث مزید گیس درآمد ممکن نہیں۔
جرمن معیشت 2023 اور 2024 دونوں سالوں میں سکڑ گئی، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں پہلی مسلسل سالانہ کمی ہے، اور اس سال صرف 0.5 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ پیر کو چانسلر فرائیڈرک مرز نے تسلیم کیا کہ توانائی بحران “روسی گیس کی کمی” کی وجہ سے ہے۔ ماسکو نے نارڈ اسٹریم پائپ لائن کے ذریعے گیس کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے لیکن برلن کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
یورپی یونین نے 2027 تک تمام روسی گیس کی درآمدات ختم کرنے کا عہدہ کیا ہے، اور یورپی کمیشن کی صدر نے کہا ہے کہ برسلز گیس کی کمی یا بجلی کی بندش کے باوجود اس پالیسی پر قائم رہے گا۔