ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
دنیا بھر میں جاری تنازعات اور جنگیں تیل کی ترسیل کا سنگین بحران پیدا کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ زدہ علاقوں میں شامل ممالک نے 2025ء میں تقریباً یومیہ 45 ملین بیرل تیل پیدا کیا، جو عالمی سپلائی کا 43 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ اس بحران کی سب سے بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔ چھ ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد یہ اہم ترین سمندری راستہ عملی طور پر بند ہو گیا ۔ اس سے پہلے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی ہے ۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے ۔ روس یوکرین جنگ نے بھی تیل کی پیداوار اور ریفائننگ میں کمی پر مجبور کیا، جبکہ لیبیا میں جاری تنازع اور امریکا کی طرف سے وینزویلا کی تیل برآمدات پر عائد پابندیوں نے صورتحال پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ خلیج اور یوکرین کے تنازعات نے عالمی ریفائننگ صلاحیت میں تقریباً 10 فیصد کمی کر دی ہے۔
امریکا کے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر میں بھی خام تیل کی سطح 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈی میں لانے کا اعلان کیا، تاہن اصل حل آبنائے ہرمز سے تیل کی معمول کی ترسیل کی بحالی ہے ۔