ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک نریندر مودی بھارت کے وزیرِ اعظم ہیں، امریکہ بھارت کے دفاع کے لیے موجود رہے گا۔ انہوں نے یہ بات جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات اور مشترکہ گفتگو کے دوران کہی۔
رپورٹس کے مطابق ملاقات میں نریندر مودی نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ اگر مودی کی قیادت میں بھارت پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو امریکہ اس کی مدد کرے گا، تاہم اگر مستقبل میں کوئی دوسرا رہنما اقتدار میں آتا ہے تو اس بارے میں وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد جنگ بندی نافذ ہوگی اور آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوتا تو آبنائے ہرمز کی بحالی ممکن نہ تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس سفارتی پیش رفت میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ ایک بڑا اور غیر معمولی معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے قطر اور سعودی عرب کی قیادت کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے مذاکراتی عمل میں مثبت کردار ادا کیا۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ ان کے مطابق امریکی ادارے سیٹلائٹ نظام کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات اور مواد کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں کے معاملات بھی آئندہ مذاکرات میں زیرِ بحث آئیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مایوس ہوئے ہیں، تاہم یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
یوکرین تنازع پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور یوکرین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول دونوں فریق ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ پائیدار امن معاہدہ کس طرح کیا جاتا ہے، تاہم امریکہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔