یوکرین کا ماسکو پر تقریباً 200 ڈرونز سے بڑا حملہ، کم از کم 17 افراد زخمی

attack in Kazan attack in Kazan

ماسکو (صداۓ روس)

یوکرین نے روسی دارالحکومت ماسکو اور اس کے گرد و نواح پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد زخمی ہو گئے جبکہ متعدد مقامات پر آگ لگنے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ماسکو کے میئر Sergey Sobyanin کے مطابق روسی فضائی دفاعی نظام نے رات بھر میں ماسکو کی جانب آنے والے کم از کم 194 ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ تاہم بعض ڈرونز اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی اور فضا میں سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔

میئر کے مطابق کئی ڈرونز ماسکو کے جنوب مشرقی علاقے کاپوتنیا میں واقع آئل ریفائنری تک پہنچ گئے، جہاں آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو فوری طور پر روانہ کیا گیا۔ ایک تباہ شدہ ڈرون کا ملبہ جنوب مشرقی ماسکو میں واقع ساڈووَد تجارتی مرکز کی عمارت سے بھی ٹکرایا، جس سے معمولی نقصان ہوا۔

حملے کے دوران ماسکو کے چاروں بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔ ماسکو ریجن کے گورنر Andrey Vorobyev کے مطابق دارالحکومت کے مشرق میں واقع کوتیلنیکی قصبے میں ایک تین سالہ بچے سمیت نو افراد زخمی ہوئے، جنہیں شیل کے ٹکڑے لگے یا دیگر نوعیت کی چوٹیں آئیں۔

رامینسکوئے شہر میں بھی ایک دس سالہ بچی سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ ژوکوفسکی شہر میں ایک ڈرون رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص گردن پر زخم آنے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا۔

گورنر کے مطابق لیوبرتسی کے مختلف علاقوں میں گرنے والے ڈرونز کے ملبے سے بھی نقصان ہوا، جہاں دو افراد زخمی ہوئے۔ ایک شخص کے کولہے پر چوٹ آئی جبکہ دوسرے کا بازو ٹوٹ گیا۔ اسی دوران ماسکو رنگ روڈ کے قریب واقع بیلایا داچا شاپنگ مال کی چھت پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث مال کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔ حکام کے مطابق سولنیچنوگورسک میں ایک شخص اور ساڈووَد تجارتی مرکز پر حملے میں ایک اور شہری زخمی ہوا۔ اس کے علاوہ چیکوف، الیکٹروسٹال اور دیگر علاقوں میں گرنے والے ڈرونز کے ملبے سے نجی گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ روسی حکام نے اس حملے کو ماسکو کے خلاف حالیہ عرصے کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔