ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت اور روس نایاب ارضی دھاتوں (ریئر ارتھ) سے میگنےٹس بنانے کی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔ یہ میگنےٹس الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر قابل تجدید توانائی تک متعدد اہم صنعتوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ رواں ہفتے روساٹوم کی سائنسی ڈویژن کے تحت کام کرنے والی کمپنی JSC Giredmet نے بھارتی کمپنی Nexon Geochem Pvt Ltd کے ساتھ ریئر ارتھ میگنےٹس کے خام مال کی پروسیسنگ کی ٹیکنالوجیز پر تحقیق اور ترقی کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔
اسی کے ساتھ JSC Giredmet نے Technology Innovation in Exploration & Mining Foundation (TEXMiN) کے ساتھ مستقل میگنےٹس بنانے کی ٹیکنالوجیز پر تحقیق کے لیے خطِ نیت بھی دستخط کیا۔
عالمی سطح پر نایاب ارضی دھاتوں میں دلچسپی اس وقت بڑھ گئی ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ چین، جو دنیا کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے، نے امریکہ کی ٹیرف کی وجہ سے برآمدات پر پابندیاں لگا دی ہیں جس سے آٹوموٹو اور دیگر ہائی ٹیک انڈسٹریز میں سپلائی میں خلل پڑا ہے۔
بھارت میں ریئر ارتھ پرمننٹ میگنےٹس کی کھپت 2030 تک دگنی ہونے کی توقع ہے۔ نئی دہلی اپنی زیادہ تر ضرورت درآمد کرتا ہے۔
بھارت نایاب ارضی دھاتوں کی سپلائی چین کو وسعت دینے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورہ کے دوران نئی دہلی اور واشنگٹن نے کریٹیکل معدنیات اور ریئر ارتھ کی سپلائی، کان کنی، پروسیسنگ، ری سائیکلنگ اور سرمایہ کاری کے لیے فریم ورک پر اتفاق کیا۔
بھارت کے پاس دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ریئر ارتھ ریزرو ہیں (69 لاکھ ٹن)، تاہم وہ صرف ایک بہت چھوٹا حصہ نکال رہا ہے۔
روس کے قدرتی وسائل کی وزارت کے مطابق روس میں 65 کروڑ 80 لاکھ ٹن نایاب دھاتیں ہیں جن میں 15 اقسام کی ریئر ارتھ دھاتوں کی 2 کروڑ 85 لاکھ ٹن مقدار شامل ہے۔