ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.97 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں 0.57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق 8 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر (ایس پی آئی) بڑھ کر 372.58 پوائنٹس ہو گیا، جو گزشتہ ہفتے 370.46 پوائنٹس تھا۔ ایس پی آئی ملک کے 17 شہری مراکز کی 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران 51 میں سے 20 اشیا (39.22 فیصد) مہنگی ہوئیں، 6 اشیا (11.76 فیصد) سستی ہوئیں، جبکہ 25 اشیا (49.02 فیصد) کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ادارہ شماریات کے مطابق اس ہفتے آٹا، مرغی، دال چنا، ٹماٹر، پیٹرول، دال مسور، چائے، دال ماش اور ایل پی جی مہنگی ہوئیں، جبکہ ڈیزل، آلو اور چینی کی قیمتوں میں کمی آئی۔ دال مونگ اور گڑ بھی اس ہفتے سستا ہوا۔ سالانہ بنیاد پر پیاز کی قیمت میں 100.24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی 68.55 فیصد مہنگی ہوئی۔ بجلی کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 58.59 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایک سال کے دوران پیٹرول 47.52 فیصد اور ڈیزل 42.52 فیصد مہنگا ہوا۔ کم ترین آمدنی والے گروپ (17,732 روپے تک) کے لیے ایس پی آئی میں 0.52 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 354.73 سے بڑھ کر 356.56 پوائنٹس ہو گیا۔ اسی طرح دیگر آمدنی والے گروپس میں بھی 0.53 سے 0.60 فیصد کے درمیان اضافہ دیکھا گیا۔