ماسکو (صداۓ روس)
روسی دارالحکومت میں «روس کے روایتی مذاہب: اتحاد کے استحکام اور معاشرے کی ترقی میں کردار» کے عنوان سے بین الاقوامی علمی و عملی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ۵۴ ممالک سے مذہبی رہنماؤں، سرکاری و سماجی شخصیات، سفارت کاروں اور محققین نے شرکت کی۔ پاکستان سے شریک پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر انٹرفیتھ ریلیشنز سہیل احمد رضا نے امن، مفاہمت اور مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
روس کی مسلم روحانی اسمبلی کے زیرِ اہتمام یہ اجتماع روس میں اقوام کے اتحاد کے سال، مسلم روحانی اسمبلی کے قیام کی دسویں اور ماسکو مفتیات کی پندرھویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کیا گیا۔ کانفرنس میں مذہبی تنظیموں کی عوامی سفارت کاری، بین الاقوامی مکالمے اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے درمیان تعاون کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔
مسلم روحانی اسمبلی کے سربراہ مفتی البیر کرگانوف نے کہا کہ مختلف ممالک کی قومی، مذہبی اور ثقافتی خصوصیات کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے روحانی و اخلاقی خودمختاری اور دوسرے معاشروں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے روس میں مختلف مذاہب کے باہمی تعلقات اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے تجربے سے غیرملکی شرکا کو آگاہ کیا۔
اجلاس میں روسی وفاقی کونسل کی سربراہ ویلنتینا ماتویینکو، وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور صدارتی انتظامیہ کے سربراہ انتون وائنو کے خیرمقدمی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ روسی آرتھوڈوکس چرچ اور رابطہ عالم اسلامی کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور خاندانی اقدار، انسانی وقار اور سماجی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔
امپیریل آرتھوڈوکس فلسطین سوسائٹی کے سربراہ سرگئی اسٹیپاشین نے نیکی، امن اور خاندان کو روس کے روایتی مذاہب کے ماننے والوں کی مشترکہ اقدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشترکہ بنیادیں معاشرتی اتحاد مضبوط بنانے میں اہم کردار رکھتی ہیں۔
کانفرنس کے موقع پر خصوصی گفتگو میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ ایسے وقت میں، جب دنیا کے مختلف خطے بدامنی، کشیدگی اور جنگوں کا سامنا کررہے ہیں، مختلف ممالک کی سیاسی، مذہبی اور علمی قیادت کو مکالمے کے لیے ایک جگہ جمع کرنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کانفرنس میں شرکت کو مثبت تجربہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ شرکا نے مختلف موضوعات پر اپنے خیالات اور تجاویز پیش کیں۔ اس فورم کے ذریعے یہ پیغام بھی سامنے آیا کہ روس اور اس خطے میں آباد مسلمان امن کے خواہاں ہیں اور دنیا کے دیگر مسلم معاشروں کی طرح پُرامن مستقبل چاہتے ہیں۔
پاکستان اور روس کے عوامی تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام گزشتہ چند برسوں سے ایک دوسرے کو زیادہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی روابط، باہمی واقفیت اور دوستی کا فروغ خطے میں امن کے لیے مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔
جنگوں اور تنازعات کے خاتمے میں مذہبی رہنماؤں کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی اور بنیادی فیصلوں کی ذمہ داری سیاسی قیادت کے پاس ہوتی ہے، تاہم مذہبی اور روحانی قیادت معاشرتی تنگ نظری، خصوصاً مذہبی اختلافات کی بنیاد پر پیدا ہونے والی دوریوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنما شاید براہِ راست پوری سیاسی صورتِ حال تبدیل نہ کرسکیں، لیکن عوام کی سوچ اور رویوں کو مثبت سمت دینے اور مختلف کمیونٹیز کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جب لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو وہ اپنی حکومتوں کو امن اور مفاہمت کے لیے قائل کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر انٹرفیتھ ریلیشنز سہیل احمد رضا نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ مختلف ممالک اور مذاہب کے نمائندوں کی شرکت اس امر کی عکاس ہے کہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل مشترک ہیں، اس لیے ان کے حل کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس ان مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ان کے حل کی تلاش میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مختلف مذاہب کے نمائندوں سے اپنی ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ان روابط کو بین المذاہب مکالمے کی فضا مضبوط بنانے کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیا۔
پاکستان کے علاقائی کردار کے حوالے سے سہیل احمد رضا نے کہا کہ پاکستان خطے میں اہم حیثیت رکھتا ہے، جبکہ امن ہر قوم اور ہر ملک کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کے بغیر اقتصادی، سماجی اور سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ ان کے مطابق پائیدار امن پوری دنیا کی ضرورت ہے، جس کے لیے مکالمے، باہمی رابطے اور تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
کانفرنس کی بین الاقوامی تعاون سے متعلق نشست میں مذہبی مقدسات اور عبادت گاہوں کے تحفظ پر بھی گفتگو ہوئی۔ شرکا نے شہری جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تنازعات کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مباحث میں انسانی وقار، اخلاقی ذمہ داری اور حاصل کردہ معلومات کی جانچ کو ضروری قرار دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر ۱۴ نکات پر مشتمل قرارداد منظور کی گئی۔ بعدازاں اسٹیٹ کریملن پیلس میں «ایمان کی قوت، اقوام کے اتحاد میں» کے عنوان سے تقریب اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوا۔