ایران کا جرمن صدر کے بیان کا خیر مقدم

Iranian president Masoud Pezeshkian Iranian president Masoud Pezeshkian

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جرمنی کے صدر فرانک والٹر شٹائن مائر کو اس بات کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بارے میں بات کی۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: “بین الاقوامی قانون عملاً مردہ ہو چکا ہے — غزہ بمقابلہ یوکرین پر مغربی دوہرے معیار اور ایران پر اسرائیل-امریکہ کی جارحیت پر خاموشی کی وجہ سے۔ تاہم صدر شٹائن مائر کا شکریہ کہ انہوں نے ایرانیوں کے خلاف خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ جو لوگ قانون کی حکمرانی کے قدر دان ہیں انہیں بھی آواز اٹھانی چاہیے۔”
اس سے قبل جرمنی کے صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس میں تہران سمیت ایران کے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس حملے کا جواز تہران سے آنے والے مبینہ میزائل اور جوہری خطرات قرار دیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر جوابی حملہ کیا۔ بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی تنصیبات پر بھی حملے ہوئے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کچھ دیگر اہم ایرانی شخصیات ہلاک ہو گئیں۔