ایران کے سعودی عرب کے متعدد توانائی کی تنصیبات پر حملے

Iran attack Bahrain Iran attack Bahrain

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ایران نے سعودی عرب کے مشرقی صنعتی شہر الجبیل میں واقع اہم پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایران کے اسالوئیہ میں قائم پیٹروکیمیکل تنصیبات پر مبینہ حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق الجبیل، جو سعودی عرب کے ڈاؤن اسٹریم توانائی شعبے کا مرکزی مرکز ہے، کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ شہر سعودی آرامکو، سابک اور مغربی کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے مشترکہ منصوبوں کا مرکز ہے۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے سدارا کمپلیکس (آرامکو اور ڈاؤ انکارپوریٹڈ کا مشترکہ منصوبہ) اور ایگزون موبائل سے وابستہ تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ قریبی علاقے جعیمہ میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر بھی حملے کا دعویٰ کیا گیا۔
تاحال سعودی عرب میں کون سی مخصوص تنصیبات متاثر ہوئیں، یہ واضح نہیں ہو سکا، البتہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں الجبیل کی سمت سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دکھائی دیے۔
سعودی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ مشرقی علاقے کی جانب داغے گئے سات بالسٹک میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم ان کے ملبے کے کچھ حصے توانائی تنصیبات کے قریب گرے۔ سعودی آرامکو اور سابک نے ابھی تک حملوں پر کوئی فوری ردعمل نہیں دیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔