ایران کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی سے دوچار کرسکتی ہے، روس

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

ایران کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی سے دوچار کرسکتی ہے، روس

ماسکو (صداۓ روس)
روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ میں شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ بارودی سرنگوں سے بھرا ایک میدان ہے جہاں معمولی سی لغزش بھی سلسلہ وار دھماکوں کا سبب بن سکتی ہے۔ آر ٹی کے پروگرام میں اینکر رک سانچیز کو دیے گئے انٹرویو میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس ایران اور امریکا پر اپنی بات مسلط نہیں کرنا چاہتا، تاہم اگر دونوں ممالک کسی پرامن حل کی جانب بڑھتے ہیں تو ماسکو تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران روس کا قریبی شراکت دار اور ہمسایہ ملک ہے اور وہاں کی صورتحال نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے انتہائی حساس اور دھماکہ خیز ہے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایرانی، اسرائیلی اور امریکی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ روس کسی بھی ممکنہ معاہدے کے نفاذ میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ فریقین کسی نتیجے پر پہنچیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال شدید کشیدگی اختیار کر گئی تھی۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تنصیبات جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے منسلک ہیں، جبکہ ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر پُرامن قرار دیا تھا۔ دو ہفتوں تک جاری رہنے والے باہمی طویل فاصلے کے حملوں کے بعد امریکا بھی براہِ راست مداخلت میں آیا اور ایران میں مضبوط حفاظتی مقامات کو نشانہ بنایا، جنہیں اسرائیلی فوج تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔

Advertisement

حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئے حملے کے امکان کا اشارہ بھی دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ اسی دوران امریکا اور ایران کے درمیان سخت اور پیچیدہ مذاکرات بھی جاری ہیں، جو جون 2025 میں ہونے والی شدید کشیدگی سے قبل کی صورتحال کی یاد دلاتے ہیں۔