ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈوں اور 274 عمارتوں کے تباہ ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے سیٹلائٹ تصاویر اور امریکی فوجی حکام سے انٹرویوز کے ذریعے فوجی اڈوں کی تباہی کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں میں ہی 13 اڈوں کی 119 عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں زیادہ تر کویت میں واقع تھیں۔ امریکی اخبار کی تحقیق کے مطابق ایران نے جنگ کے پہلے چھ ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی والی 24 تنصیبات کی 274 عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ امریکی محکمہ دفاع نے نقصان کا ابتدائی تخمینہ کم از کم 5 ارب ڈالر لگایا ہے، تاہم بعض ذرائع کے مطابق یہ رقم 15 ارب ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے فوجیوں کی رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا۔ 17 جولائی کو اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر ایرانی حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم 19 عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں اہلکاروں کی رہائش گاہیں بھی شامل تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس دوران 15 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا، جبکہ اڈوں کی تعمیر نو پر 4 ارب ڈالرز سے زائد خرچ ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی محدود کرنے پر بھی غور کر رہا ہے اور کویت اور سعودی عرب میں کچھ تنصیبات سے اہلکاروں کو منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔