اسلام آباد مذاکرات ناکام، سفارتکاری کا عمل ختم نہیں ہوتا, ایران

Iran Iran

اسلام آباد(صداۓ روس)

ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت میں ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے اختتام پذیر ہو گئے، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ سفارتکاری کا عمل جاری رہے گا اور یہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی باقری نے مذاکرات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد کی جانب سے “غیر معمولی مطالبات” کے باعث کوئی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان متعدد معاملات پر “باہمی سمجھ بوجھ” پیدا ہوئی، تاہم دو سے تین اہم نکات پر اختلافات برقرار رہے، جو معاہدے میں رکاوٹ بنے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے طویل دورانیے کے حامل تھے، جو تقریباً 24 سے 25 گھنٹے تک جاری رہے۔
ناصر کنعانی باقری کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت ایک ایسے ماحول میں ہوئی جو عدم اعتماد اور شکوک و شبہات سے بھرپور تھا، خاص طور پر 40 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد ایسے نتائج کی فوری توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا سے ہی یہ واضح تھا کہ ایک ہی نشست میں کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ “سفارتکاری کبھی ختم نہیں ہوتی” اور یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے، جسے جنگ اور امن دونوں حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریقِ مخالف کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے، ساتھ ہی ایران کے جائز حقوق اور مفادات کو تسلیم کرنا بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل میں بعض نئے اور پیچیدہ معاملات بھی شامل ہوئے، جن میں آبنائے ہرمز کا مسئلہ سرفہرست ہے، اور ہر ایک موضوع اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت حساس اور پیچیدہ ہے۔
ناصر کنعانی باقری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کا سفارتی نظام ہر صورتحال میں عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے گا۔
انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سمیت پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی میزبانی قابلِ تحسین رہی اور انہیں یقین ہے کہ ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوست ممالک کے درمیان روابط اور سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔