ایران کی حمایت بین الاقوامی قانون کے مطابق کر رہے ہیں، روس

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں روس کی حمایت کا بنیادی سبب بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کی خواہش ہے۔ فرانس ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے۔ اس پر پوچھے جانے پر لاوروف نے کہا ہمارا بنیادی فوکس بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنا تھا، نہ کہ صرف ایران کا دفاع کرنا۔ ایران ہمارا اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ فرانسیسی، جو تاریخی طور پر بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، یہ نہیں دیکھ رہے کہ کیا ہو رہا ہے۔

لاوروف نے مزید کہا کہ روس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے متفق نہیں ہو سکتا کہ انہیں بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں اور وہ اپنی ذاتی اخلاقیات اور سوچ کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں امریکہ کی ہر فوجی مداخلت — عراق، شام اور لیبیا میں — نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے اور اب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔

انہوں نے امریکہ پر سفارتی بددیانتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دوسری بار بات چیت کے عروج پر حملے کر رہا ہے۔ لاوروف نے کہا کہ جب امریکی حکام ایران کے سپریم لیڈر کے ٹھنڈے دل سے قتل پر فخر سے بات کرتے ہیں تو اسے بدنیتی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ عرب ممالک کے اس بیان پر کہ وہ دو جنگیں دیکھ رہے ہیں (امریکہ-اسرائیل کی ایران پر اور ایران کی جوابی کارروائی)، لاوروف نے کہا کہ یہ منطق قبول نہیں کی جا سکتی کیونکہ اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت ہے جو تصفیے کی کنجی ہے۔
انٹیلی جنس فراہم کرنے کے الزامات پر لاوروف نے کہا کہ میڈیا اس موضوع کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ روس نے ایران کو کچھ قسم کے فوجی آلات فراہم کیے ہیں، لیکن انٹیلی جنس فراہم کرنے کے الزامات سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی جگہ سب کو معلوم ہے۔