ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکہ یا چین کے “غلام” نہ بنیں اور ایک “آزادی کی کوئلیشن” (Coalition of Independence) تشکیل دیں۔ یانسی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی نظام ایک مخصوص استحکام پر قائم تھا، لیکن اب یہ نظام انتشار کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں اس نئے انتشار میں صرف تماشائی نہیں بننا چاہیے بلکہ ایک نیا عالمی نظام بنانا چاہیے۔”
میکرون کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد دو غالب طاقتوں (امریکہ اور چین) کا غلام بننا نہیں ہے۔ ہم نہ تو چین کی بالادستی پر انحصار کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی امریکہ کی غیر متوقع پالیسیوں کے سامنے بے بس ہونا چاہتے ہیں۔
کوئلیشن کے اراکین اور مقاصد:
میکرون نے اس کوئلیشن میں شامل ہونے والے ممکنہ ممالک کی فہرست بھی دی۔ ان ممالک میں یورپی ممالک کے علاوہ جنوبی کوریا، جاپان، برازیل، انڈیا، آسٹریلیا اور کینیڈا شامل ہیں۔
یہ اتحاد بین الاقوامی قانون، جمہوریت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مشترکہ مسائل پر مبنی ہوگا۔ میکرون نے اسے “تیسرا راستہ” قرار دیا جو نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین کی طرف جھکاؤ رکھتا ہو۔
پس منظر:
یہ بیان ایران جنگ اور نیٹو کے حوالے سے ٹرمپ کے ساتھ میکرون کے عوامی تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔ میکرون نے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کی حمایت سے انکار کیا تھا اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے فوجی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔ فرانس حالیہ برسوں میں اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے اور یورپ کو اسٹریٹجک خودمختاری دینے پر زور دے رہا ہے۔ میکرون نے یہ بھی کہا تھا کہ فرانس جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کو اپنے جوہری چھتری کے تحت تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔