افریقی ملک گنی نے خام سونے کی برآمدات پر پابندی عائد کردی

Gold Gold

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

مغربی افریقی ملک گنی کے صدر مامادی ڈومبویا نے خام سونے کی برآمدات پر فوری پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والا تمام سونا برآمد سے قبل مقامی سطح پر ریفائن اور پراسیس کیا جائے گا۔ صدارتی دفتر کے مطابق یہ فیصلہ 19 جون کو صنعتی اور روایتی کان کنی کے شعبے سے وابستہ آپریٹرز اور سونے کے خریدار اداروں کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ نئے حکم نامے کے تحت خام سونا برآمد کرنے والے کسی بھی ادارے کا لائسنس معطل کیا جا سکتا ہے، اس کا کان کنی کا معاہدہ منسوخ کیا جا سکتا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ عالمی گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق گنی 2025 میں 69.3 ٹن سونے کی پیداوار کے ساتھ افریقہ کا چھٹا بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک تھا۔ اس کے علاوہ گنی دنیا میں باکسائٹ کا سب سے بڑا پیدا کنندہ بھی ہے اور 2024 میں عالمی پیداوار کا تقریباً ایک تہائی حصہ اسی ملک سے حاصل کیا گیا۔ صدر دومبویا نے کہا کہ گنی قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے گنی کا سونا خام حالت میں بیرون ملک بھیجا جاتا رہا جہاں اسے ریفائن کرکے عالمی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ گنی کو اس سے محدود مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اب گنی کا سونا گنی ہی میں پگھلایا، تصدیق شدہ اور قدر میں اضافہ کرنے کے بعد عالمی منڈیوں میں برآمد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

حکومت کے مطابق سونے کی ریفائننگ کا عمل دارالحکومت کوناکری میں قائم سرکاری حمایت یافتہ نمبا گولڈ ریفائنری میں انجام دیا جائے گا۔ یہ ریفائنری روزانہ تقریباً دو ہزار کلوگرام سونا پراسیس کرنے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سونے کی اینٹیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صدر دومبویا، جو 2021 میں اقتدار میں آئے تھے، پہلے ہی گنی کے باکسائٹ سیکٹر میں بھی اصلاحات متعارف کرا چکے ہیں اور مقامی سطح پر معدنیات کی پراسیسنگ کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ افریقہ کے دیگر ممالک بھی حالیہ برسوں میں اسی نوعیت کے اقدامات کر چکے ہیں۔ Zimbabwe نے خام لیتھیم کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ Tanzania اور Uganda بھی غیر پراسیس شدہ معدنیات اور دھاتوں کی برآمدات محدود کر چکے ہیں۔