ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے 5 ہزار ٹن وزنی نئے ڈسٹرائر Choe Hyon کو باضابطہ طور پر بحریہ میں شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب شمالی کوریا کی بحریہ صرف ساحلی دفاع تک محدود فورس نہیں رہی بلکہ ایک جدید اور اسٹریٹجک قوت میں تبدیل ہو رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق مغربی بندرگاہ نامپو میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہا کہ شمالی کوریا کی بحریہ کو جوہری صلاحیتوں سے لیس کرنے کا منصوبہ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور “چوئے ہیون” ڈسٹرائر اس پالیسی کی عملی عکاسی ہے۔
شمالی کوریا کے مطابق یہ جدید جنگی جہاز فضائی اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس میں جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک اور کروز میزائل بھی نصب کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جہاز کے مختلف تجربات کامیابی سے مکمل کیے گئے، جن میں کروز میزائلوں کی آزمائشی فائرنگ بھی شامل تھی۔ کم جونگ اُن نے کہا کہ شمالی کوریا کی بحری حکمت عملی اب صرف ملکی ساحلی حدود کے دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا مقصد سمندری آپریشنز کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق نیا ڈسٹرائر ملک کی پیشگی دفاعی اور جوابی کارروائی کی صلاحیت میں اہم اضافہ کرے گا۔ شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں اپنے میزائل اور جوہری پروگرام کو مسلسل وسعت دی ہے، جس کے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق “چوئے ہیون” کی شمولیت شمالی کوریا کی بحری قوت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔