ماسکو (صداۓ روس)
روسی ساختہ بعض لڑاکا طیاروں، خصوصاً Mikoyan MiG-29، کے پیچھے پرواز کے دوران نظر آنے والا گہرا سیاہ دھواں اکثر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ انجن کی خرابی یا ناقص دیکھ بھال کی علامت ہو، بلکہ بعض صورتوں میں یہ ایک مخصوص انجینئرنگ حکمت عملی کا نتیجہ ہوتا ہے۔فضائی دفاعی ماہرین کے مطابق پرانے روسی جنگی طیاروں کے انجن انتہائی سخت فضائی جنگی حرکات کے دوران انجن کے بند ہونے یا “اسٹال” ہونے سے بچانے کے لیے اضافی ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل میں انجن میں ضرورت سے زیادہ ایندھن داخل کیا جاتا ہے تاکہ شدید موڑ، تیز رفتار تبدیلیوں اور بلند زاویۂ حملہ کی صورت میں انجن مستحکم رہے۔
چونکہ اس اضافی ایندھن کا ایک حصہ مکمل طور پر نہیں جل پاتا، اس لیے کاربن کے ذرات سیاہ دھوئیں کی شکل میں خارج ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روسی لڑاکا طیاروں کے پیچھے واضح دھوئیں کی لکیر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس جدید امریکی طیارے، جیسے F-16 Fighting Falcon اور F-35 Lightning II، نسبتاً جدید انجن کنٹرول سسٹمز اور زیادہ مؤثر دہن ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث ان سے دھواں بہت کم یا تقریباً نظر نہیں آتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید روسی طیاروں، جیسے Sukhoi Su-35 اور Sukhoi Su-57، میں بھی انجن ٹیکنالوجی کافی بہتر ہو چکی ہے اور ان میں دھوئیں کا مسئلہ پرانے طیاروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ فضائی جنگ کے ماہرین کے مطابق یہ فرق مختلف ڈیزائن فلسفوں، انجن ٹیکنالوجی اور آپریشنل ضروریات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ لازمی طور پر کسی ایک نظام کی برتری یا کمزوری کی وجہ سے۔