پاکستان بھر میں یوم عاشور 10 محرم الحرام کے جلوس برآمد، عزاداری کا سلسلہ جاری

Muharram Muharram

پاکستان بھر میں 10 محرم الحرام کے موقع پر چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس برآمد ہو گئے ہیں اور مجالس کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہو کر صدر رینبو سینٹر پہنچ گیا۔ مرکزی جلوس سے قبل نشتر پارک میں مرکزی مجلس ہوئی جس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا۔ لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہو کر محلہ شعیاں پہنچ گیا۔ پشاور کی مختلف امام بارگاہوں سے یوم عاشور کے 12 جلوس برآمد ہوں گے۔ پہلا جلوس امام بارگاہ سید علی شاہ رضوی سے برآمد ہو گیا۔ جلوسوں کی سکیورٹی پر پولیس کے 14 ہزار افسران و اہلکار تعینات ہیں۔ جلوس کی گزرگاہوں کو کلیئر کرنے کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار موجود ہیں جبکہ تمام راستے سیل اور موبائل فون سروس بند ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ماتمی جلوسوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

کوئٹہ میں یوم عاشور کے موقع پر موبائل فون سروس معطل ہے۔ یوم عاشور کا جلوس صبح 9 بجے کے قریب علمدار روڈ سے برآمد ہوا۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں یوم عاشور پر سیکیورٹی کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک رہیں اور شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھیں۔ عوام امن و امان برقرار رکھنے میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں جذبہ ایثار کا درس دیتا ہے۔

ملتان میں 10 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ حرا حیدریہ سے برآمد ہو گیا۔ مرکزی جلوس شام 6 بجے درگاہ شاہ شمس تبریز پہنچ کر اختتام پذیر ہو گا۔ یوم عاشور کے 116 ماتمی جلوس شہر کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوں گے۔ جھنگ میں یوم عاشور کے موقع پر 249 جلوس اور 164 مجالس ہوں گی۔ مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ دربار گوہر شاہ سے برآمد ہو گا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں یوم عاشور پر 78 جلوس اور 13 مجالس ہوں گی۔ مرکزی ماتمی جلوس امام بارگاہ حسینیہ جھنگ روڈ سے برآمد ہو گیا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام 7 بجے اختتام پذیر ہوگا۔ مظفر گڑھ میں 165 جلوس اور 279 مجالس منعقد ہوں گی۔ ضلع بھر میں موبائل فون سروس معطل ہے۔ سیکیورٹی کے لیے 3 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ راجن پور میں 67 مجالس اور 51 جلوس نکالے جائیں گے۔ ضلع بھر میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہیں اور موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ حیدرآباد میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس قدم گاہ مولا علی سے برآمد ہو گیا۔ جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلاء دادن شاہ پر اختتام پذیر ہو گا۔ ایس ایس پی حیدرآباد کا کہنا ہے کہ جلوس کی سیکیورٹی پر 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔ جلوس کے راستے میں آنے والی تمام گلیاں اور دکانیں بند ہیں۔ جلوس کی نگرانی کے لیے ڈی ایس پی سٹی آفس میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ نواب شاہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ مرتضوی سے برآمد ہو گیا۔ شہر کے چھوٹے بڑے جلوس مختلف امام بارگاہوں سے برآمد ہو کر مرکزی جلوس میں شامل ہوں گے۔ سکھر کے علاقے روہڑی میں نو ڈھالہ تعزیہ جلوس تیسری اور آخری منزل کے لیے بعد نماز ظہرین برآمد ہو گا۔ جلوس شہداء قبرستان روہڑی پہنچ کر 36 گھنٹے بعد اختتام پذیر ہو گا۔ یہ جلوس 8 اور 9 محرم کی رات امام بارگاہ شاہ عراق سے برآمد ہوا تھا۔