اسلام آباد (صداۓ روس)
ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے موقع پر حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری، مجالس اور جلوسوں کا سلسلہ عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں مرکزی اور ذیلی جلوس برآمد ہوئے، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل رکھی گئی ہے۔ کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر میں اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس سے قبل نشتر پارک میں مجلس کا انعقاد کیا گیا جبکہ عزاداروں کے لیے مختلف مقامات پر سبیلوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ سیکیورٹی کے لیے پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے جلوس کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
لاہور میں مرکزی جلوس امام بارگاہ پانڈو اسٹریٹ سے برآمد ہوا، جو مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا جین مندر چوک میں اختتام پذیر ہوگا۔ ہزاروں عزادار جلوس میں شریک ہیں اور نوحہ خوانی و سینہ زنی کے ذریعے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ لاہور پولیس کے مطابق نویں محرم کے موقع پر سینکڑوں مجالس اور درجنوں جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے 11 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ جدید نگرانی کے نظام سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
پشاور میں مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ ہال صدر سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے گزرنے کے بعد واپس اسی مقام پر اختتام پذیر ہوگا۔ شہر بھر میں محرم کے جلوسوں اور مجالس کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق 14 ہزار سے زائد اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جبکہ حساس علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رکھی گئی ہے۔
کوئٹہ میں ناصرالعزاء امام بارگاہ میکانگی روڈ سے ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوا، جو مختصر روایتی راستوں سے گزرتے ہوئے واپس امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ انتظامیہ نے جلوس کے راستوں پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں اور نگرانی کے خصوصی اقدامات بھی نافذ کیے گئے ہیں۔
ملک بھر میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوسوں کے راستوں کی مسلسل مانیٹرنگ، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، سی سی ٹی وی کیمروں اور اضافی نفری کی تعیناتی کے ذریعے عزاداروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔