ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت کی روس سے خام تیل کی درآمدات جولائی میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئیں، جو اس کی کل خام تیل خریداری کا 55 فیصد بن گئیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جولائی میں روسی تیل کی ترسیل 2.6 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی۔
یہ اضافہ اس وقت ہوا جب روسی تیل پر امریکی پابندیاں نافذ ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد امریکا نے پابندیوں میں کم از کم تین بار استثنیٰ دیا، تاہم آخری استثنیٰ مئی میں جاری کیا گیا اور 19 جون کو ختم ہو گیا۔
روسی خام تیل کی درآمدات میں جون کے مقابلے میں 1.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نئی دہلی کی کل درآمدات میں صرف 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔ روس کا حصہ بھی 54.4 فیصد سے بڑھ کر مزید مستحکم ہو گیا ہے، جو اسے بھارت کا سب سے بڑا سپلائر بناتا ہے۔ جنوری میں روسی خام تیل کی درآمدات کا حصہ 23.4 فیصد تھا۔
روسی یورال خام تیل نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کے بعد بھارتی ریفائنرز کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ماسکو نے حال ہی میں ڈسکاؤنٹ کو تیزی سے کم کر کے 2-3 ڈالر فی بیرل کر دیا ہے۔
بھارت کی روس سے خام تیل کی خریداری میں اضافہ اس وقت ہوا جب امریکا ایک بل کو آگے بڑھا رہا ہے جس کے تحت روسی تیل اور گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکے گا۔